تازہ ترین

چیف جسٹس کا بہتر کیس مینجمنٹ اور فوری انصاف کیلئے اصلاحات جاری رکھنے کا عزم

0

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال 2026-27 کا آغاز ہوگیا، چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے تیز تر انصاف، بہتر کیس مینجمنٹ، عوامی سہولیات اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ٹیکس سے متعلق مقدمات کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2011 سے 2021 کے دوران ٹیکس سے متعلق 691 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 1044 مقدمات زیر التوا رہے، جن میں 876 مقدمات 2025 اور 2026 کے دوران دائر ہوئے۔

چیف جسٹس نے کیس مینجمنٹ میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سزائے موت کی اپیلوں میں عدالت 2015 سے 2026 تک کے مقدمات تک پہنچ چکی ہے اور 613 اپیلیں نمٹائی جاچکی ہیں، جبکہ 2026 کے صرف 31 مقدمات باقی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے 2,972 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 115 مقدمات باقی ہیں۔ ضمانت بعد از گرفتاری کے 2,926 مقدمات کے فیصلے کیے گئے اور 185 مقدمات زیر التوا ہیں۔

خاندانی مقدمات میں بھی پیش رفت ہوئی، جہاں 1,752 مقدمات نمٹائے جاچکے ہیں جبکہ 369 مقدمات باقی ہیں۔ سروس سے متعلق 4,302 مقدمات کے فیصلے کیے گئے جبکہ 3,660 مقدمات زیر التوا ہیں۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ 86 اصلاحاتی اقدامات میں سے 65 مکمل ہوچکے ہیں، 8 پر کام جاری ہے جبکہ 13 اقدامات پر مزید توجہ درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد بہتر انصاف کی فراہمی ہے، جس کے لیے عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ضروری ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر، ڈیجیٹل رابطوں، منظم فیڈ بیک سسٹم اور دیگر اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے ثالثی اور متبادل تنازعات کے حل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر تنازع کا اختتام عدالتی فیصلے پر ہونا ضروری نہیں، مناسب مقدمات میں ثالثی کے ذریعے بروقت اور مؤثر حل نکالا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نظام کی اصل کامیابی اس اعتماد میں ہے جو عوام کو حاصل ہو، انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اسے سنا جائے گا، عزت دی جائے گی اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.