تازہ ترین

اردوان کا نیتن یاہو کو کرارا جواب، اسرائیل کی تاریخ پر بڑا سوال اٹھا دیا

0

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان جاری سیاسی اختلافات ایک بار پھر اس وقت نمایاں ہوگئے جب دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بیانات پر سخت ردعمل دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ترکیہ سے متعلق حالیہ بیان پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے براہِ راست جواب دیتے ہوئے اسرائیل کی تاریخی حیثیت اور قیام کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل ترکیہ سے خوفزدہ نہیں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل نے مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھا ہے اور تاریخی تبدیلیوں کے باوجود اسرائیل قائم رہا۔

نیتن یاہو کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے رجب طیب اردوان نے سوال کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم آخر کن سلطنتوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔ ترک صدر نے نیتن یاہو کے تاریخی مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام کی نسبتاً حالیہ تاریخ کی جانب بھی توجہ دلائی۔

اردوان نے اپنے جواب میں اسرائیل کی عمر کا اپنے بھائیوں کی عمروں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان کے بھائی سے بھی کم عمر ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اردوان کے بڑے بھائی محمد اردوان 1928 میں پیدا ہوئے تھے، جبکہ ان کے ایک اور بھائی حسن اردوان کی پیدائش 1929 میں ہوئی تھی۔

ترک صدر کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ اسرائیل کا موجودہ وجود قدیم سلطنتوں اور خطے کی طویل تاریخی تبدیلیوں کے تناظر میں نسبتاً جدید ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا جس میں اسرائیل کے تاریخی تسلسل اور مختلف سلطنتوں کے خاتمے کے باوجود اس کے قائم رہنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

دوسری جانب نیتن یاہو کا بیان اسرائیل کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک نے مختلف تاریخی اور سیاسی تبدیلیوں کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھا ہے۔ تاہم اردوان نے اسی دلیل کو اسرائیل کے قیام کی تاریخ کے تناظر میں چیلنج کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی اور تاریخی اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا۔

ترکیہ اور اسرائیل کے رہنماؤں کے درمیان اس نوعیت کے سخت بیانات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم تازہ بیان بازی میں تاریخ، قومی شناخت اور خطے میں دونوں ممالک کے کردار کو خاص اہمیت حاصل رہی۔ اردوان کی جانب سے نیتن یاہو کے بیان کا براہِ راست جواب دینے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی اختلافات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے تازہ بیانات صرف باہمی سیاسی اختلافات تک محدود نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، تاریخی بیانیے اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے دونوں ممالک کے مختلف مؤقف کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.