ایران کا بھارت، چین، عراق اور قطر کو آبنائے ہرمز سے چار ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔، ایرانی رہنما
تہران: ایران نے بھارت، چین، عراق اور قطر کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں عائد ٹرانزٹ پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق ان ممالک کے جہازوں کو اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت حاصل ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین امیر حیات مقدم نے کہا ہے کہ فی الحال بھارت، چین، عراق اور قطر کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ پابندیوں سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان ممالک کے جہاز آزادانہ طور پر گزر رہے ہیں اور امریکی حکام بھی انہیں نہیں روک رہے۔
امیر حیات مقدم کا کہنا تھا کہ یہ رعایت ایران اور متعلقہ ممالک کے درمیان باہمی مفادات کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ تہران بھارتی جہازوں کی آمدورفت آسان بنا رہا ہے تاکہ بھارت سے ادویات درآمد کی جا سکیں۔
ایرانی رہنما نے بتایا کہ ایران بھارتی اور چینی جہازوں سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ٹرانزٹ فیس وصول کرتا ہے، جبکہ قطری جہازوں کو بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے عراقی جہازوں سے فیس وصول کیے جانے یا نہ کیے جانے کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔
حیات مقدم کے مطابق چینی جہازوں کو استثنیٰ دینے کا مقصد بیجنگ کی سیاسی حمایت حاصل کرنا بھی تھا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے خلیجی ممالک کی جانب سے عالمی منڈیوں کو تیل اور گیس کی بڑی مقدار فراہم کی جاتی ہے۔ اس کی اسٹریٹجک اہمیت عالمی توانائی اور تجارت کے لیے غیر معمولی ہے۔