اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، اس سلسلے میں ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ حالیہ رابطوں اور ملاقاتوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ دو سے تین ہفتوں کے دوران پاکستانی وفود نے علاقائی بحران کے حل کے لیے دو مرتبہ تہران کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایران کا دورہ کیا، جبکہ سعودی عرب کے وزیر دفاع اور ترکیہ کے ابراہیم قالن کے دورے بھی اسی سفارتی عمل کا حصہ تھے۔
وزیراعظم کے مطابق ان رابطوں میں علاقائی کشیدگی کم کرنے کے ساتھ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کے حوالے سے باہمی تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ جمعے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان تھا، تاہم وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، ان کی ٹیم، اوگرا اور متعلقہ کمیٹی کی کوششوں سے آئل ریفائنریز کو اضافی منافع میں حصہ ڈالنے پر آمادہ کیا گیا، تاکہ قیمتوں میں اضافے کا پورا بوجھ عوام پر منتقل نہ ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے عام شہریوں پر فی لیٹر 15 روپے اضافی بوجھ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے پیٹرولیم ریلیف پروگرام کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کم از کم دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔ ان کے مطابق تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد سبسڈی ٹوکن استعمال کرکے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ فی گھرانہ پانچ سے چھ افراد کے حساب سے اس پروگرام سے بالواسطہ طور پر تقریباً ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہوئے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اس منصوبے پر تقریباً 28 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو پروگرام کی نگرانی کر رہا ہے اور بعض پیٹرول پمپس پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ ملوث پیٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جس میں انہیں بند کرنے اور بھاری جرمانے عائد کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
ایل پی جی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس کاروبار پر کئی دہائیوں سے ایک مافیا کا غلبہ رہا ہے، جس نے بھاری منافع کمایا۔ حکومت نے ایل پی جی کی درآمد اور تقسیم میں مسابقت اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے نیا نظام متعارف کرایا ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے اجلاس کو بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی ایل پی جی ذیلی کمپنی، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور پارکو پرل گیس نئے انتظامات میں حصہ لیں گی۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق پاکستان کو روزانہ تقریباً 7 ہزار ٹن ایل پی جی درکار ہوتی ہے، جبکہ مقامی پیداوار تقریباً 2 ہزار 500 ٹن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی پانچ اور دس ٹن کی لاٹس میں نیلامی کے ذریعے فروخت کی جائے گی، جس کی پہلی نیلامی اگلے ہفتے متوقع ہے۔ نیلامی کا عمل شفافیت کے لیے کیمروں کی نگرانی میں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نئے مسابقتی نظام کے تحت درآمدات کی بھی اجازت ہوگی اور کمپنیاں اپنی قیمتیں اور اخراجات ویب سائٹس پر ظاہر کریں گی۔ اس نظام سے حاصل ہونے والا منافع سرکاری خزانے میں جمع ہوگا، جسے بعدازاں عام صارفین کو ایل پی جی پر سبسڈی دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے حوالے سے بتایا کہ صوبے کے لیے 160 ارب روپے کا ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکیج گزشتہ روز حتمی شکل دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حالیہ انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔
شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان تعاون سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کو بہادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان بھی طویل عرصے تک دہشت گردی کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق 2018 تک دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا تھا، تاہم بعدازاں یہ دوبارہ سر اٹھا گئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیکیورٹی اداروں کی کوششوں اور قوم کی دعاؤں سے اس ناسور کا دوبارہ خاتمہ کیا جائے گا۔
توانائی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت موسم سرما کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ سمندری راستوں کو درپیش مسائل کے تناظر میں توانائی کی ضروریات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ایل این جی، ایل پی جی، تیل، پیٹرول اور دیگر وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے بجلی گھروں کو فعال رکھنے اور عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات محدود کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
شہباز شریف نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو گروپ آف ٹوئنٹی فور (جی 24) کی سربراہی سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کریں گے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے کامیاب تجربے کا بھی اعلان کیا اور قوم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ان کی ٹیم، متعلقہ اداروں اور منصوبے میں شامل افراد کو دیا۔