خیبرپختونخوا میں زراعت، آبپاشی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے وفاقی حکومت نے تقریباً 100 ارب روپے مالیت کے تین بڑے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد صوبے میں زرعی سرگرمیوں کو سہارا دینا، دیہی آبادی کے لیے روزگار اور معاش کے مواقع بہتر بنانا اور اہم ترقیاتی ضروریات پوری کرنا ہے۔
سرکاری معلومات کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیرصدارت مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھی وفاق نے ترقیاتی منصوبوں اور دہشت گردی کے خاتمے کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا کے لیے 69 ارب 89 کروڑ روپے مالیت کے آبپاشی منصوبے کو منظوری کے اگلے مرحلے کے لیے تجویز کیا گیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کے لیے 56 ارب 13 کروڑ 30 لاکھ روپے فراہم کرے گا، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت زمین کے حصول سمیت تقریباً 11 ارب 69 کروڑ روپے کا حصہ دے گی۔ منصوبے کے تحت پیہور مین کینال کی بحالی، ملکہو آبپاشی نظام کی تعمیر اور پیہور ہائی لیول کینال میں توسیع کی جائے گی۔
اجلاس میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع میں چچھر میٹھاوان کے مقام پر مربوط پہاڑی برساتی پانی کے انتظام کے 85 ارب 34 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کو بھی مزید منظوری کے لیے تجویز کیا گیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کے لیے 73 ارب 6 کروڑ روپے فراہم کرے گا، جبکہ پنجاب حکومت 12 ارب 28 کروڑ روپے کا حصہ دے گی۔ منصوبے میں جدید آبپاشی نظام، سیلاب سے تحفظ کے چینلز، ٹیلی میٹری اور نگرانی کے جدید نظام شامل ہیں۔
مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے ضم شدہ اضلاع کے لیے وزیراعظم سولر اسکیم کے 13 ارب 32 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کو بھی منظوری کے اگلے مرحلے میں بھیج دیا۔ اس اسکیم کا مقصد ان علاقوں کے گھرانوں کو بجلی کے قومی گرڈ سے ہٹ کر شمسی توانائی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں چکدرہ سے تیمرگرہ تک قومی شاہراہ این-45 کے 39 کلومیٹر حصے کی بہتری اور توسیع کے 17 ارب ایک کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کو بھی مزید منظوری کے لیے تجویز کیا گیا۔ اس منصوبے سے چکدرہ، تیمرگرہ، دیر اور چترال کے درمیان رابطہ بہتر ہونے کے ساتھ تجارت، سیاحتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی حفاظت میں بہتری کی توقع ہے۔
اجلاس میں ملک بھر کے مزید 11 منصوبوں پر بھی پیشرفت ہوئی، جن کی مجموعی لاگت تقریباً 126 ارب 50 کروڑ روپے بتائی گئی۔ اس طرح زیرغور اور منظور شدہ منصوبوں کی مجموعی لاگت 226 ارب 48 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ان میں سے 40 ارب 90 کروڑ روپے مالیت کے 10 نسبتاً چھوٹے منصوبوں کی منظوری دی گئی، جبکہ چار بڑے منصوبے حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔
دیگر منصوبوں میں لاہور کے شاہدرہ میں امامیہ کالونی ریلوے کراسنگ پر آٹھ لین کا اوورہیڈ پل، مختلف علاقوں میں دانش اسکولوں کا قیام، وزیراعظم یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز، ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ اسپورٹس لیگ، قومی اختراعی ایوارڈ اور پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کی جدید خطوط پر تنظیم نو شامل ہیں۔ توانائی کے شعبے میں جھمپیر ون گرڈ اسٹیشن پر بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے آزمائشی منصوبے کو بھی اصولی منظوری دی گئی۔