بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن ردالفتنہ 3 کے دوران کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گرد کمانڈر عادل شاہ عرف درویش کو ہلاک کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا کمانڈر دسمبر 2020 سے اس گروہ سے وابستہ تھا اور 2024 سے اس کے مالی معاملات کی نگرانی کر رہا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع اور دستیاب دستاویزات کے مطابق عادل شاہ غیرمقامی دہشت گردوں کو ژوب، شیرانی اور شعبان کے علاقوں میں مستقل رہائش فراہم کرنے میں معاونت کرتا تھا۔ وہ 2022 اور 2023 کے دوران سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور اغوا برائے تاوان کے لیے بھتہ خوری کی وارداتوں میں بھی ملوث رہا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں 19 ایف آئی آرز درج تھیں، جبکہ حکومت نے اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔
دوسری جانب پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں تقریباً 66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اس کمی کو سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران گزشتہ پانچ ہفتوں میں سیکیورٹی فورسز نے 10 کارروائیوں میں مجموعی طور پر 33 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دہشت گرد حملوں میں کمی ملک کی سیکیورٹی صورت حال میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔