تازہ ترین

سندھ میں منکی پاکس کا خطرناک پھیلاؤ، کیسز 98 اور اموات 12 ہوگئیں

0

کراچی میں ایم پاکس (منکی پاکس) سے متاثرہ ایک اور بچہ دورانِ علاج جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد سندھ میں رواں سال اس وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں ایم پاکس کے مجموعی کیسز 98 تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران سات نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال کے ترجمان راشد خان کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والا بچہ نائپا میں واقع اسپتال میں زیرِ علاج تھا، جہاں اس کی موت واقع ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ بچے کو چند روز قبل ایک نجی اسپتال سے منتقل کیا گیا تھا۔

ایم پاکس کے پھیلاؤ اور احتیاطی تدابیر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال ریگل کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور ماہرِ امراضِ جلد ڈاکٹر عبداللہ یحییٰ نے بتایا کہ یہ ایک متعدی وائرل بیماری ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے، خصوصاً جلد پر موجود دانوں، چھالوں اور زخموں کے براہِ راست لمس سے پھیل سکتی ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ شخص کے زیرِ استعمال آلودہ کپڑوں، تولیوں، بستر اور دیگر ذاتی اشیا سے بھی وائرس منتقل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ یحییٰ نے جلد تشخیص، متاثرہ افراد کو الگ رکھنے اور طبی ہدایات پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ایم پاکس بچوں اور بالغوں دونوں کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم بیماری کی شدت ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ شیر خوار بچوں، کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

ماہرِ امراضِ جلد کے مطابق اس بیماری کی عام علامات میں بخار، جسم میں درد، لمف نوڈز کی سوجن اور جلد پر غیر معمولی دانے، چھالے یا زخم شامل ہیں۔ مشتبہ اور تصدیق شدہ مریضوں کو طبی نگرانی میں الگ رکھنا اور انفیکشن سے بچاؤ کے مناسب اقدامات کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مریض مناسب طبی نگہداشت اور نگرانی سے صحت یاب ہو سکتے ہیں، تاہم شدید علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں کراچی میں ایم پاکس کے سب سے زیادہ 26 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ خیرپور میں 22، سکھر میں 9 اور حیدرآباد میں 5 کیسز سامنے آئے، جبکہ گھوٹکی، کشمور اور شہید بینظیر آباد میں تین، تین کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ افراد میں تقریباً 73 فیصد مرد اور 27 فیصد خواتین شامل ہیں۔

دوسری جانب سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے کراچی کے علاقے ملیر 15 میں واقع ابنِ حسن اسپتال کو انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات سے متعلق خدشات کے بعد سیل کر دیا۔ یہ کارروائی 20 روزہ نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق کرنے والی لیبارٹری رپورٹ کے بعد کی گئی۔ دستیاب معلومات کے مطابق نومولود کا ختنہ اسی اسپتال میں کیا گیا تھا، جس کے بعد طبی آلات کی جراثیم سے پاک حالت اور انفیکشن کنٹرول کے طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھے ہیں۔

صحت کے ماہرین نے عوام کو صفائی کا خاص خیال رکھنے، مشتبہ یا تصدیق شدہ مریضوں کے زخموں اور چھالوں کو براہِ راست چھونے سے گریز کرنے اور تولیے، کپڑے یا بستر جیسی ذاتی اشیا مشترکہ طور پر استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ صحت کے حکام متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی نشاندہی اور نگرانی کے ذریعے وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات بھی کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.