خیبرپختونخوا میں وزارتِ اعلیٰ کے معاملے پر نئی سیاسی صف بندی کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کا اگلا وزیراعلیٰ وفاقی حکومت کی حمایت سے منتخب ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رکن کو جماعت سے الگ کرکے آئندہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ حکومتی رضامندی اور معاونت سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اندر فارورڈ بلاک تشکیل دیا جائے گا، جس کے ذریعے سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کی کوشش ہوگی۔ تاہم، یہ دعوے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے سامنے آئے ہیں اور فراہم کردہ معلومات میں ان کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔
اپوزیشن کی قیادت سے متعلق سوال پر جے یو آئی کے سینیٹر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نہیں بنیں گے۔ ان کے مطابق محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں اور ان کی جماعت ان کا احترام کرتی ہے۔ کامران مرتضیٰ نے واضح کیا کہ جے یو آئی خیبرپختونخوا کے حوالے سے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ کسی دوسری جماعت کے پروگرام کے بجائے اپنے سیاسی مؤقف اور ترجیحات کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں جمہوری انداز میں معاملات آگے بڑھانے سے مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی برقرار رہے گی اور کسی کو اس جماعت کے وجود پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ کامران مرتضیٰ نے دہشت گردی کے خاتمے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی بہتری اور عوام کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ فراہم کردہ خبر میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کیے جانے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ان حالات میں صوبے کی سیاسی صورتحال اور وزارتِ اعلیٰ سے متعلق ممکنہ تبدیلیوں پر بحث تیز ہونے کا امکان ہے، تاہم نئے وزیراعلیٰ یا فارورڈ بلاک کے قیام سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ اس خبر میں سامنے نہیں آیا۔