تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیاری

0

خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ صوبے میں نئے انتظامی سیٹ اپ کے قیام کے بعد آئندہ ماہ سے باقاعدہ کریک ڈاؤن شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو یکم نومبر سے پہلے پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

خیبر پختونخوا کی نئی صوبائی انتظامیہ میں مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو واپس جانا ہوگا اور غیر قانونی قیام کی مزید اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی رہائش کے لیے قانونی دستاویزات ضروری ہیں۔ افغان باشندے واپس جا کر ویزا حاصل کرنے کے بعد قانونی طریقے سے پاکستان آ سکتے ہیں، تاہم غیر قانونی قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری ہے اور آئندہ ماہ ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے واپس جانے والے افغان شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے دوبارہ ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پشاور میں تعینات ایک پولیس افسر کے مطابق صوبے میں کارروائی کے لیے تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں اور تھانوں کی سطح پر غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کا ڈیٹا مرتب کر لیا گیا ہے۔ افسر نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی افغان باشندے مقیم ہیں۔ ان کے مطابق ہر تھانے میں متعلقہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو کارروائی کی نگرانی کرے گی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دورِ حکومت میں بھی افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں جاری تھیں، تاہم اب وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے صوبے میں افغان باشندوں کی زیادہ تعداد کی ایک وجہ سابقہ حکومت کے دور میں اختیار کی گئی نسبتاً نرم پالیسی کو قرار دیا۔

حکام کے مطابق مقررہ مدت تک پاکستان نہ چھوڑنے والے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ گرفتاری کے بعد ملک بدری کے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.