پیرس بہت جلد ’مسلم شہر‘ بن جائے گا,ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری بدامنی اور احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی امیگریشن پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پیرس بہت جلد ایک ’مسلم شہر‘ بن جائے گا۔ انہوں نے فرانس سمیت یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں پر سخت پابندیاں عائد کریں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں بدامنی کو تارکینِ وطن کی آمد سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر کو پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر سے لوگوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینا ایک بڑی غلطی ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایمانوئل میکرون کو سرحدیں بند کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم فرانسیسی صدر نے اس پر عمل نہیں کیا۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک کو متنبہ کیا کہ سرحدی نگرانی سخت نہ کی گئی تو انہیں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب فرانس میں احتجاجی مظاہروں کے پس منظر میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، تعلیمی نظام اور عوامی سہولتوں سے متعلق شکایات بھی شامل ہیں۔ مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے اور ایک تاریخی بلدیاتی عمارت کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا۔
تشدد کے واقعات کے بعد فرانسیسی حکام نے بعض شہروں اور پیرس کے مخصوص علاقوں میں رات کے وقت پابندیاں نافذ کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات سخت کردیے ہیں۔
ٹرمپ نے ان واقعات کی بنیادی وجہ امیگریشن کو قرار دیا، تاہم فرانس میں جاری احتجاج کے اسباب میں معاشی اور سماجی شکایات بھی شامل ہیں۔ ان کے بیان کے بعد فرانس کی امیگریشن پالیسی اور یورپ میں تارکینِ وطن کے کردار سے متعلق بحث مزید نمایاں ہوگئی ہے۔