پاکستان نے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے لیے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو ایران اور مصر کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں علاقائی صورتحال، مذاکراتی کوششوں اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے گفتگو کے دوران علاقائی صورتحال اور بغداد میں جاری اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر بات کی۔ اسحاق ڈار نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان 17 اور 18 اکتوبر کو بغداد میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر علاقائی امن سے متعلق مزید مشاورت بھی متوقع تھی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اجلاس خطے کے اہم ممالک کو باہمی مشاورت کا موقع فراہم کرے گا۔
پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے مذاکراتی راستے کی حمایت کرتا رہا ہے۔ 9 اکتوبر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان تنازع کے مذاکرات اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے اور کشیدگی کے خطے میں مزید پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے ساتھ عرب اور خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی تھی۔
اسحاق ڈار نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کی۔ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا۔
گفتگو میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل آر فور گروپ کے آئندہ اجلاس کے انعقاد پر بھی بات ہوئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی تعلقات مضبوط بنانے اور علاقائی معاملات پر رابطہ کاری بڑھانے کے لیے جلد اجلاس منعقد کرنے کی امید ظاہر کی۔
چاروں ممالک گزشتہ کئی ماہ سے آر فور فریم ورک کے تحت علاقائی بحرانوں، بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان تنازع، اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے 22 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات کی تھی، جس میں علاقائی صورتحال، سعودی عرب پر حملوں اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئندہ آر فور اجلاس کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں اجتماعی دفاع، فوجی رابطہ کاری، مشترکہ مشقوں اور دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون کا تصور شامل ہے۔ تینوں ممالک نے واضح کیا تھا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ مصر نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے، تاہم اس کی ممکنہ شمولیت پر پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے۔