امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کے مثبت پیغامات ملے ہیں، عباس عراقچی
عالمی طاقتوں کے تعلقات اور خطے میں دفاعی تعاون سے متعلق اہم بیانات سامنے آئے ہیں، جہاں ایرانی قیادت نے عالمی نظام میں تبدیلیوں، امریکا کے ساتھ مذاکرات اور اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ عالمی نظام میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور توانائی، تجارت اور کرنسی کے شعبوں میں نئی صف بندیاں سامنے آنے والی ہیں۔ ان کے مطابق عالمی نظام میں بڑی تبدیلیوں سے متعلق چین کا مؤقف بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے، جبکہ جاری تبدیلیاں عالمی طاقتوں کے تعلقات اور معاشی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے مثبت پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی دہرائی اور کہا کہ یمن میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت ناگزیر ہیں۔ عباس عراقچی نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ معاملات میں عقل مندی اور سمجھ داری سے کام لے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اسلامی ممالک کے اتحاد کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران بھی اس عمل میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات سے تاحال آگاہ نہیں ہیں۔