تازہ ترین

محمود اچکزئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان، اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن بھی برقرار

0

پشاور میں اپوزیشن جماعتوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، پارلیمان کے اختیار اور آزادانہ و شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا کہ اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے، تاہم ان کی ترجیح پُرامن اور آئینی جدوجہد ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے پشاور ہائی کورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرکے آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پشاور آئے ہیں۔ ان کے بقول وفاقی حکومت نے منتخب صوبائی حکومت کو ہٹا کر غیر آئینی اقدام کیا ہے۔

محمود اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں نشستیں حاصل کی تھیں، لیکن حکومت کسی دوسری جماعت کے حوالے کر دی گئی۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی کی نااہلیوں اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قیدی سے ملاقات کرنے سے نہیں روکنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان پر کسی معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ماضی میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا رہا، جبکہ ان کے مطابق موجودہ دور میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے تحت بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں معلومات منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیا اور صوبائی وزرا، ارکانِ اسمبلی اور کارکنوں کے لاپتا ہونے سے متعلق اطلاعات پر تشویش ظاہر کی۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور آئینی تحفظ کے لیے کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن نہ کسی پر پتھراؤ کرے گی اور نہ تشدد کا راستہ اختیار کرے گی، بلکہ اپنی جدوجہد پُرامن انداز میں جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اپوزیشن بات چیت کے لیے تیار ہے اور تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں اپوزیشن نے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں آئین کی بالادستی، متنازع ترامیم واپس لینے، پارلیمان کو فیصلہ سازی کا مرکزی فورم بنانے اور آزادانہ و شفاف انتخابات کے لیے خودمختار کمیشن کے قیام کے مطالبات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مسائل اسی وقت حل ہو سکتے ہیں جب پارلیمان کو فیصلہ سازی میں بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں کو دعوت دی جائے گی۔

صوبائی حقوق کے حوالے سے محمود اچکزئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔ انہوں نے سابق قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی اہمیت کے فیصلے آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت کیے جانے چاہییں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بھی خطاب کرتے ہوئے ان افراد پر تنقید کی جو آئین کے معمار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے بقول خود آئینی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو دہشت گردی کا ذمہ دار پورے صوبے کو ٹھہرانے کے مترادف قرار دیا۔ اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں بھی کئی برس سے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن اس کے باوجود بدامنی کا مسئلہ برقرار ہے۔

اختر مینگل نے سوال اٹھایا کہ آیا ایسے اقدامات سے ملک کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کو ہٹائے جانے اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر و وزرا کے بارے میں اطلاعات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کو انہوں نے فارم 47 کے ذریعے منتخب ہونے والا قرار دیا، وہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، جبکہ ایسا نظام زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں بدامنی بڑھ گئی ہے اور حکومت موجودہ نظام چلانے میں ناکامی کے باعث ایک صوبے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومتی وزرا بھی نظام کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔

راجہ ناصر عباس نے الزام لگایا کہ عوامی مینڈیٹ چرانے والے اختلافِ رائے اور احتجاج کو دبانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی غربت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملکی صورتحال پر خاموش رہنا حب الوطنی کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں، وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.