فنکار ایک دن دیر سے آئیں تو غیر پیشہ ور، پروڈیوسرز مہینوں ادائیگی روکیں تو؟ سحر ہاشمی
پاکستانی اداکارہ سحر ہاشمی نے ڈرامہ انڈسٹری میں فنکاروں کے ساتھ پیشہ ورانہ رویے اور معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیر پر پروڈیوسرز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اداکارہ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں سوال اٹھایا کہ اگر فنکار ایک دن تاخیر سے پہنچیں تو انہیں غیر پیشہ ور قرار دیا جاتا ہے، لیکن پروڈیوسرز کی جانب سے مہینوں تک ادائیگیاں روکنے پر اسی معیار کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟
سحر ہاشمی کے مطابق انڈسٹری میں فنکاروں کے معمولی تاخیر سے پہنچنے پر سخت تنقید کی جاتی ہے، جبکہ معاوضوں کی ادائیگی میں کئی ماہ کی تاخیر کو اکثر حساب کتاب کے مسائل قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اداکارہ نے اس فرق پر سوال اٹھاتے ہوئے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے یکساں معیار کی ضرورت اجاگر کی۔
سحر ہاشمی نے اپنے فنی سفر کا آغاز ڈرامہ سیریل ظلم سے کیا۔ گزشتہ دو سے تین برس کے دوران انہیں ٹیلی وژن کی دنیا میں زیادہ پہچان ملی ہے۔ ڈرامہ شیدائی میں ان کی اداکاری کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ زنجیریں میں شہر بانو کے کردار نے بھی انہیں ناظرین میں مقبولیت دلائی۔
اداکارہ کے حالیہ بیان نے فنکاروں کے حقوق، معاوضوں کی بروقت ادائیگی اور پروڈیوسرز کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ ان کے مؤقف کے مطابق فنکاروں سے وقت کی پابندی کی توقع رکھنے کے ساتھ معاوضوں کی ادائیگی میں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب سحر ہاشمی آئندہ ڈرامہ درِ نجات میں بھی نظر آئیں گی، جس میں وہ خوش بخت کے کم عمر کردار میں اداکاری کریں گی۔ تاہم ڈرامے کی ریلیز کی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی۔