ایران کے لیے سب سے بڑا محاذ معاشی جنگ ہے، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف
ایران نے جنگ اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث بڑھتے معاشی دباؤ کو ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے عوام کے روزگار اور آمدن کو محفوظ رکھنے پر زور دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے معاشی جنگ سب سے بڑا محاذ ہے، جس کے اثرات فوجی، سائبر اور نفسیاتی جنگ سے بھی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
جنگ اور پابندیوں کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے مؤثر حکومتی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کا مقصد عوام کو جاری دباؤ کے منفی اثرات سے بچانا ہونا چاہیے اور شہریوں کے معاشی تحفظ کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے جنگ اور پابندیوں کے اثرات لوگوں کے روزگار اور آمدن تک ممکنہ حد تک تاخیر سے پہنچیں۔ ان کے مطابق عام شہریوں پر معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے مؤثر فیصلے ضروری ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے معاشی تحفظ کے ساتھ فوج کو درکار وسائل فراہم کرنا بھی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
قالیباف کے بیان میں معاشی استحکام کو بیرونی دباؤ سے نمٹنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق معاشی جنگ کے اثرات براہِ راست فوجی تصادم سے آگے تک پھیل سکتے ہیں، اس لیے حکومت کو ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو شہریوں کے روزگار اور گھریلو آمدن کو متاثر ہونے سے بچا سکیں۔
ایران کو بین الاقوامی پابندیوں کے باعث تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ تاہم، قالیباف نے اپنے بیان میں کسی نئی معاشی پالیسی یا مخصوص اقدامات کی تفصیلات نہیں بتائیں، بلکہ عوام کے معاشی تحفظ اور دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے مؤثر حکومتی فیصلوں پر زور دیا۔