صدر مملکت آصف علی زرداری نے قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے کے لیے علاقائی تعاون، عالمی اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب آفات کے بعد امدادی کارروائیوں کے بجائے ان سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کو ترجیح دینا ہوگی۔
قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان سیلاب، زلزلوں، ہیٹ ویوز اور خشک سالی جیسی آفات کا سامنا کر چکا ہے، جن کے نتیجے میں انسانی جانوں اور معیشت کو بھاری نقصان پہنچا۔ ان تجربات سے واضح ہوا ہے کہ مؤثر پیشگی تیاری ناگزیر ہے اور آفت آنے کے بعد ردعمل دینے کا روایتی طریقہ اب کافی نہیں رہا۔
صدر مملکت کے مطابق پاکستان اپنے نظامِ آفات سے نمٹنے کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور حقیقی وقت کے اعداد و شمار سے مدد لی جا رہی ہے۔ ان ذرائع کے ذریعے ممکنہ خطرات کی نشاندہی، بروقت انتباہات جاری کرنے اور آفت آنے سے پہلے متاثرہ آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے مقامی حکومتوں اور کمیونٹی رضاکاروں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات میں مقامی انتظامیہ اور رضاکار اکثر سب سے پہلے امداد کے لیے پہنچتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے علاقے، جغرافیے اور آبادی کے حالات کا بہتر علم ہوتا ہے۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ آفات سے بچاؤ کی تیاری کو اپنے کام کا بنیادی حصہ بنائیں۔
صدر زرداری نے مشترکہ خطرات کا سامنا کرنے والے ممالک اور علاقوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی انتباہی نظام ایسا ہونا چاہیے جو سرحدوں کے پار بھی معلومات کا فوری تبادلہ ممکن بنائے۔
انہوں نے عالمی سطح پر آبی لچک کے پروگرام، برفانی خطوں کے تحفظ کے اقدام اور غذائی تحفظ و موسمیاتی موافقت کے لیے عالمی فنڈ قائم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ صدر مملکت نے ماحولیاتی تحفظ کے قوانین مضبوط بنانے اور مشترکہ دریاؤں سمیت قدرتی آفات سے متعلق مشترکہ خطرات پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے قدرتی آفات کے دوران پاکستانی عوام کی ہمت اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے متاثرہ آبادیوں کی بحالی میں مصروف افراد، دوسروں کی مدد کے لیے اپنی سلامتی خطرے میں ڈالنے والے رضاکاروں اور انسانی جانیں بچانے کے لیے کام کرنے والے سائنس دانوں کی خدمات کا اعتراف کیا۔ صدر زرداری نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان موسمیاتی آفات کے اثرات کا شکار رہنے کے بجائے ان سے نمٹنے کے عالمی اقدامات میں قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔
دریں اثنا، صدر آصف علی زرداری سے پیر کو ایوانِ صدر میں سیکریٹری خارجہ سفیر عاصم افتخار احمد نے ملاقات کی۔ صدر مملکت نے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر انہیں مبارک باد دی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ اپنے تجربے اور صلاحیتوں کو پاکستان کے خارجہ پالیسی مفادات کے فروغ کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
صدر زرداری نے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مضبوط بنانے، تعمیری سفارتی روابط کو فروغ دینے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سیکریٹری خارجہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
ایک الگ پیغام میں صدر مملکت نے پرنس رحیم آغا خان کو سالگرہ پر مبارک باد دی۔ انہوں نے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک اور آغا خان فاؤنڈیشن کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحت، تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور پائیدار معاش کے شعبوں میں خدمات کو سراہا۔