تازہ ترین

آئین کی بالادستی اور صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، متحدہ اپوزیشن

0

خیبرپختونخوا کی سیاسی و آئینی صورتحال پر متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے گورنر راج کے نفاذ اور منتخب حکومت کے خاتمے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا غیر آئینی قدم اٹھایا گیا۔

قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، مولانا فضل الرحمان، سلمان اکرم راجہ اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا کی سیاسی و آئینی صورتحال، گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ، منتخب حکومت کے خاتمے اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کو صوبے کے عوام کے مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور آئین و قانون کی بالادستی برقرار رکھی جائے۔ اجلاس میں 11 اکتوبر کو سیاہ دن کے طور پر یاد رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

شرکاء نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ فوری واپس لینے اور صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ کا احترام کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ پہلے ہی امن و امان کے سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں سیاسی محاذ آرائی اور غیر جمہوری اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے شرکاء کو حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کے ساتھ بات چیت مکمل ہو چکی تھی، اس کے باوجود یہ غیر آئینی قدم اٹھایا گیا۔

اجلاس میں موجودہ سیاسی و آئینی بحران کے حل کے لیے باہمی مشاورت اور سیاسی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ آئین کی بالادستی، جمہوری نظام کے تحفظ، صوبائی خودمختاری اور خیبرپختونخوا کے عوام کے آئینی و مالی حقوق کے لیے آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

شرکاء نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے جامع قومی حکمت عملی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا، تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کو امن، تحفظ اور ان کے جمہوری حقوق فراہم کیے جا سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.