وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جماعت کی پالیسیوں اور حکومتی اقدامات میں کوتاہیوں کے باعث صوبے میں دہشت گردی کے مسائل سنگین ہوئے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف نے دہشت گرد عناصر کو صوبے کی رہائشی آبادیوں میں آباد ہونے کا موقع دیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی معاون جماعت قرار دیتے ہوئے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے انسداد دہشت گردی کے نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مؤثر بنانا، فرانزک لیبارٹری قائم کرنا اور پولیس کو جدید ہتھیار فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی، تاہم ان شعبوں میں مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
عطا تارڑ نے خواتین سے متعلق صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ طالبان کا خواتین سے متعلق نظریہ خیبرپختونخوا پر مسلط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طویل حکمرانی کے باوجود صوبے کو ایسے حالات کا سامنا ہے جو ان کے بقول ماضی میں دیکھنے میں نہیں آئے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ صوبے کی ترقی کے لیے مناسب وقت نہیں دیتے، جبکہ تخریبی سرگرمیوں سے متعلق معاملات پر طویل اجلاس کرتے ہیں۔ انہوں نے صوبے کی موجودہ صورتحال کو پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت سے جوڑا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا ماضی میں امن اور فخر کی علامت تھا، لیکن ان کے بقول تحریک انصاف کے دور میں صوبہ ترقی کے بجائے مشکلات کا شکار ہوا۔ انہوں نے صوبے کی صورتحال کو قرون وسطیٰ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام ترقی کے مواقع کے منتظر ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے وزیراعظم شہباز شریف کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عوامی خدمت میں مصروف ہیں اور مستحق افراد کو پیٹرول پر سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے دورِ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کے دفتری اوقات سے متعلق بھی بیان دیا۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام غربت اور دہشت گردی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ لکی مروت سے صوابی تک آئی ٹی پارکس کیوں قائم نہیں کیے گئے اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر خاطرخواہ توجہ کیوں نہیں دی گئی۔