تازہ ترین

پاکستان کے پانی کے حق سے محرومی کی کوشش کے خطے کے امن پر سنگین اثرات ہوں گے، اسحاق ڈار

0

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو اس کے جائز آبی حصے سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خطے کے امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ پاکستان سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔

آسٹریا میں پاکستانی سفارتخانے اور ویانا کی سفارتی اکیڈمی کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی آبی سمپوزیم سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے عزم کے حوالے سے کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پانی انسانی بقا، خوشحالی اور ماحولیاتی پائیداری کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور سرحد پار دریائی نظام رکھنے والے ممالک کے درمیان جغرافیہ ایک مستقل باہمی انحصار پیدا کرتا ہے۔

نائب وزیراعظم کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ مشترکہ دریاؤں کے پانی کو تعاون اور متفقہ قانونی فریم ورک کے تحت منظم کیا جائے گا یا اسے سیاسی دباؤ اور محاذ آرائی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کیلئے آبی سلامتی براہِ راست غذائی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ دریائے سندھ کا نظام ملک میں 25 کروڑ سے زائد افراد کی زندگی اور روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی پانی زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار، معاشی ترقی اور ماحولیاتی نظام کی بقا میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے اثرات محض دوطرفہ اختلاف تک محدود نہیں رہیں گے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طویل مذاکرات کے بعد سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان دریائی پانی سے متعلق قانونی ذمہ داریوں کا ایک واضح اور قابلِ پیش گوئی نظام قائم کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی اصول تسلیم کرتا ہے کہ جن پانیوں پر لاکھوں افراد کا انحصار ہے، انہیں دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہنا چاہیے۔

اسحاق ڈار کے مطابق بھارت نے اپریل 2025 میں یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا اعلان کیا، حالانکہ معاہدے میں کسی فریق کو ایسا یکطرفہ اقدام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 31 اگست کو مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے بھارت پر معاہدے کی پاسداری کی ذمہ داری برقرار رکھی اور ایک پن بجلی منصوبے پر اس کے کام کو محدود کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول کی توثیق ہے کہ معاہدوں کی پاسداری لازم ہے۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلے نے اس امر کو تقویت دی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم حقوق اور ذمہ داریوں کو کوئی ایک فریق یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا، تاہم ان کے بقول بھارت اب بھی ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ اور غیر قانونی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.