امریکا ایران مذاکرات، مرحلہ وار پیش رفت کی تجویز زیرغور
نیویارک- امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کی سفارتی کوششوں میں مرحلہ وار معاہدے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے اور ایران پر عائد امریکی اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے امکانات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دونوں ممالک کے مذاکرات کار جنگ سے مرحلہ وار نکلنے کے راستوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مجوزہ طریقہ کار میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے امریکا کی جانب سے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور بعض منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی دینے کے امکانات بھی شامل ہیں۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق موجودہ تعطل کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کرنا ایک قابلِ عمل راستہ ہوسکتا ہے، تاہم مذاکرات میں دونوں جانب سے اپنے مؤقف اور دباؤ برقرار رکھنے کے باعث پیش رفت کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف کو اہم قرار دے رہا ہے، جبکہ امریکا کی ترجیح عالمی اہمیت رکھنے والی اس آبی گزرگاہ میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کرنا ہے۔ دونوں فریق اس معاملے کو وسیع تر مذاکرات میں مرکزی حیثیت دے رہے ہیں۔
سابق امریکی مذاکرات کار ڈینس راس نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات تقریباً 30 فیصد ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے پاس جلد کسی سمجھوتے کی طرف بڑھنے کی وجوہات موجود ہیں، تاہم اختلافات بدستور موجود ہیں۔
مذاکرات میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، اقتصادی پابندیوں اور ایران کے منجمد اثاثوں سمیت مختلف معاملات پر ممکنہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔