25 ستمبر، قومی اخبارات قارئین ڈے——- —-اخبار: صدیوں کا سفر، خبر کے کاغذ سے ڈیجیٹل دنیا تک
رپورٹ: باخبر ویب ڈیسک- آج ہمارے ہاتھ میں موجود اخبار صرف کاغذ پر چھپی خبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ صدیوں کے سفر کا نتیجہ ہے۔ ایک وقت تھا جب اہم خبریں زبانی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی تھیں، پھر ہاتھ سے لکھے ہوئے خبرنامے وجود میں آئے اور بعد ازاں چھاپہ خانے نے خبروں کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچانے کا راستہ کھول دیا۔
اخبار کی ابتدائی شکلوں کے آثار قدیم روم تک ملتے ہیں، جہاں روزمرہ واقعات، سرکاری اعلانات اور اہم معاملات عوام تک پہنچائے جاتے تھے۔ بعد کے ادوار میں یورپ کے مختلف علاقوں میں ہاتھ سے لکھے ہوئے خبرنامے بھی گردش کرتے رہے۔
پندرہویں صدی میں یوہانس گٹن برگ کے چھاپہ خانے نے معلومات کی دنیا میں ایک تاریخی تبدیلی پیدا کی۔ طباعت کے باعث تحریری مواد بڑی تعداد میں تیار ہونا ممکن ہوا اور یہی پیش رفت آگے چل کر اخبارات کی باقاعدہ اشاعت کی بنیاد بنی۔
سترہویں صدی کے آغاز میں باقاعدہ مطبوعہ اخبارات کا دور شروع ہوا۔ 1605ء میں جرمن زبان میں شائع ہونے والا ایک اخبار جدید اخبار کی ابتدائی مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بعد یورپ کے مختلف علاقوں میں باقاعدگی سے اخبارات شائع ہونے لگے اور صحافت ایک منظم شعبے کی شکل اختیار کرتی گئی۔
وقت کے ساتھ اخبار صرف خبروں تک محدود نہیں رہا۔ اس میں اداریہ، کالم، تجزیہ، تجارت، کھیل، ثقافت اور عوامی مسائل بھی شامل ہونے لگے۔ اخبارات نے رائے عامہ کی تشکیل، عوامی مسائل اجاگر کرنے اور مختلف طبقات کی آواز سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
برصغیر میں بھی اخبارات نے سیاسی اور سماجی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تحریک آزادی کے دوران اخبارات نے عوام میں سیاسی آگاہی پیدا کرنے، اتحاد کو فروغ دینے اور حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اخبارات کی اصل طاقت صرف خبر پہنچانے میں نہیں بلکہ خبر کا پس منظر، مختلف نقطہ نظر، تجزیہ اور عوامی مسائل کو سمجھنے کا موقع فراہم کرنے میں ہے۔ یہی خصوصیت اخبار کو محض معلومات کے ذریعے سے بڑھ کر معاشرے کے اجتماعی شعور کا حصہ بناتی ہے۔
آج دنیا ڈیجیٹل دور میں داخل ہوچکی ہے۔ خبر چند سیکنڈز میں موبائل فون تک پہنچ جاتی ہے، سماجی ذرائع ابلاغ نے معلومات کی رفتار کئی گنا بڑھا دی ہے اور مصنوعی ذہانت نے معلومات کی تیاری اور ترسیل کے نئے راستے پیدا کیے ہیں۔ تاہم اسی تیزی کے ساتھ جعلی خبروں اور گمراہ کن معلومات کا مسئلہ بھی بڑھا ہے۔
اخبار نے بھی وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کیا ہے۔ آج کاغذی اخبار کے ساتھ برقی اشاعت اور آن لائن ذرائع نے صحافت کو نئی نسل تک پہنچا دیا ہے۔ یوں اخبار نے اپنی بنیادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئی شکل اختیار کرلی ہے۔
پاکستان میں 25 ستمبر کو قومی اخبارات قارئین ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اخبارات کے مطالعے کو فروغ دینا اور معاشرے میں باخبر شہری کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے 2019ء میں اس دن کو قومی سطح پر منانے کا اعلان کیا تھا۔
نوجوانوں کے لیے اخبار کا مطالعہ آج بھی اہم ہے۔ یہ ملکی اور عالمی حالات سے آگاہی کے ساتھ زبان، عمومی معلومات، تجزیاتی صلاحیت اور تنقیدی سوچ کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
قومی اخبارات قارئین ڈے صرف اخبار پڑھنے کا دن نہیں بلکہ باخبر اور باشعور معاشرے کی تشکیل کی یاد دہانی بھی ہے۔ ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کر جائے، درست معلومات حاصل کرنے، خبر کو سمجھنے اور حقیقت و افواہ میں فرق کرنے کی ضرورت ہمیشہ برقرار رہے گی۔