پاکستان کی طرف میلی نظر رکھنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ضیا لانگو
کوئٹہ: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ غلط فہمیوں سے نکل کر زمینی حقائق کو سمجھے اور جنگ و دیگر ممالک کے مفادات کے بجائے پاکستان کے ساتھ ایک اچھے ہمسائے کی حیثیت سے تعلقات آگے بڑھائے۔
اپنے بیان میں میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اپنی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج سرحدوں پر ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی خطرے کی صورت میں ملک کے دفاع کا بھرپور عزم رکھتی ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اور ہمسایہ ملک ہے، تاہم ان کے بقول افغانستان کو بعض معاملات میں غلط فہمی کا شکار ہونے کے بجائے تاریخ اور موجودہ حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔ انہوں نے سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے حوالے سے کہا کہ اس عمل میں متعدد قوتیں شامل تھیں اور اسے صرف افغانستان کی کامیابی قرار دینا درست نہیں۔
میر ضیا اللہ لانگو نے امریکہ کے افغانستان سے انخلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغان طالبان کے ساتھ باہمی رضامندی کے تحت افغانستان سے نکلا تھا۔ ان کے مطابق افغانستان کو اس تاثر سے بھی باہر آنا چاہیے کہ وہ ایک بڑی طاقت بن چکا ہے اور بیرونی حمایت یا وسائل کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی اختیار کرسکتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان بیرونی ممالک کے مفادات اور مالی معاونت کے ذریعے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ جنگ کے بجائے ایک اچھے ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں پر مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور اگر کسی نے پاکستان کی خودمختاری یا سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
میر ضیا اللہ لانگو نے افغانستان سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے عوام کو مزید جنگ اور بدامنی سے نکالنے پر توجہ دے۔ ان کے مطابق افغان عوام گزشتہ چار دہائیوں کے دوران جنگ کے باعث بھاری نقصانات برداشت کرچکے ہیں، اس لیے افغانستان کو اپنے ملک کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیلنے کے بجائے اپنے عوام کے مسائل اور نقصانات کے ازالے پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو موجودہ حالات میں حقیقت پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ پرامن ہمسائیگی، باہمی احترام اور تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔
میر ضیا اللہ لانگو نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان پاکستان کے ساتھ جنگ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو ان کے بقول اس کا نتیجہ افغانستان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔