اسلام آباد: 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت میں متوقع احتجاج کے باعث سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں پر ٹریفک محدود کرنے اور عوامی اجتماعات پر پابندی سمیت دیگر اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پنجاب کے محکمہ داخلہ کی درخواست پر اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں پاکستان رینجرز تعینات کی گئی ہے۔ رینجرز کی تعیناتی 20 ستمبر سے 5 اکتوبر 2026 تک برقرار رہے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز اہلکار اسلام آباد انتظامیہ اور پنجاب حکومت کی جانب سے تفویض کردہ فرائض انجام دیں گے۔ پولیس اور رینجرز کو پرتشدد سرگرمیوں یا مسلح گروہوں کی جانب سے کسی حملے یا خطرے کی صورت میں ضروری دفاعی کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ نے سیکیورٹی اہلکاروں کو پرتشدد سرگرمیوں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رینجرز پولیس کی معاونت کے ساتھ امن و امان برقرار رکھنے اور مخصوص علاقوں میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دے گی۔
دوسری جانب اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جس کے تحت شہر میں عوامی اجتماعات اور اجتماعات کی مختلف اقسام پر پابندی عائد ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ پابندیاں پُرامن اجتماع اور عوامی نظم و نسق ایکٹ 2024 کے تحت نافذ کی گئی ہیں۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے، جس میں تین سال تک قید کی سزا بھی شامل ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
سیکیورٹی انتظامات کے تحت اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک کے بعض علاقوں میں 26 اور 27 ستمبر کو موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کیے جانے کا امکان ہے۔
اسلام آباد کی جانب آنے والی اہم شاہراہوں پر بھی ٹریفک محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ موٹروے ایم ون کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے چچھ انٹرچینج تک، جبکہ ایم 14 کو ہکلہ سے کندل کے درمیان بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جی ٹی روڈ پر بھی اٹک خورد کے مقام پر ٹریفک محدود کی جائے گی۔ یہ اقدامات 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے والے متوقع احتجاجی قافلوں کے پیش نظر کیے جارہے ہیں۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے رینجرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جبکہ صوبے میں دفعہ 144 کے تحت اجتماعات اور جلوسوں پر پابندیاں عائد ہیں۔
حکام کی جانب سے حساس مقامات اور اسلام آباد کی جانب آنے والے راستوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں کو کسی بھی پرتشدد سرگرمی یا ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔