حوثی حملوں پر سلامتی کونسل کا سخت مؤقف، فوری کشیدگی روکنے کا مطالبہ
سعودی عرب میں شہریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے حملوں اور فوجی کشیدگی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں، خصوصاً شہریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور شہریوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔
کونسل نے حوثیوں سے فوری طور پر فوجی کشیدگی ختم کرنے اور سعودی عرب پر حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کیا۔
سلامتی کونسل نے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات اور حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جبکہ رکن ممالک پر زور دیا کہ حوثیوں تک اسلحہ، فوجی تربیت، تکنیکی معاونت اور مالی وسائل کی رسائی روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں حالیہ لڑائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 73 اقوام متحدہ کے اہلکار حوثی حکام کی تحویل میں ہیں اور ان کی فوری و غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہجرت سے متعلق ادارے کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث یمن میں کم از کم 112,000 افراد اندرونِ ملک بے گھر ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 3 ہزار افراد سمندری راستے سے جبوتی منتقل ہوئے ہیں۔