پشاور: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا باعث نہیں بنے گا، جبکہ صوبائی حکومت کو لانگ مارچ کی تیاری کے بجائے خیبرپختونخوا میں امن و امان اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کا مارچ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مقصد سے کیا جارہا ہے، تاہم اسلام آباد کی جانب احتجاج لے جانے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد میں احتجاج اور لانگ مارچ کی تیاری کے بجائے صوبے میں جاری مسائل کے حل پر توجہ دے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا اس وقت امن و امان سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کوہاٹ پولیس لائنز کے حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ کوہاٹ حملے میں تازہ سرکاری و طبی اطلاعات کے مطابق 21 افراد شہید جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ سکیورٹی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے۔
فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں ڈاکٹرز کے احتجاج سمیت دیگر مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ ایک طرف دہشتگردی اور دوسری جانب مختلف شعبوں کے احتجاج کے باعث خیبرپختونخوا کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوان اور کاروباری برادری مختلف شعبوں میں ترقی کرکے خیبرپختونخوا کا مثبت تشخص اجاگر کررہے ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو ایسے معاملات پر توجہ دینی چاہیے جو عوام اور صوبے کی مجموعی صورتحال سے براہ راست متعلق ہیں۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع نے خطے میں بحران پیدا کیا ہے۔ انہوں نے شادی ہالز اور ہوٹلز کی بندش سے متعلق تجاویز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سکیورٹی مسائل سے دوچار صوبے پر مزید اثر ڈال سکتے ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس حوالے سے کسی منصوبے یا سازش کا حصہ نہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام بالآخر پارلیمنٹ کا معاملہ ہے اور منتخب نمائندے جو بھی فیصلہ کریں گے، اسے نافذ کیا جائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ الگ ہزارہ صوبے کے قیام کی تجاویز کو خیبرپختونخوا میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں ہوئی، جبکہ پنجاب میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے حمایت سامنے نہیں آئی۔