تازہ ترین

بولیویا کے جنگلات میں نئی جنگلی بلی دریافت، ایک صدی بعد نئی نوع کی شناخت

0

بولیویا: جنوبی امریکا کے پہاڑی جنگلات میں ایک ایسی ننھی جنگلی بلی کی نئی نوع سامنے آئی ہے جس کی باضابطہ شناخت نے سائنسی دنیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ مقامی آبادی میں ٹلکایو کے نام سے جانی جانے والی اس بلی کو ایک صدی سے زائد عرصے بعد دریافت ہونے والی نئی زندہ جنگلی بلی کی نوع قرار دیا گیا ہے۔

یہ بلی بولیویا کے سرسبز یُنگاس کے پہاڑی جنگلات میں پائی گئی، جہاں گھنے جنگلات اکثر بادلوں میں گھرے رہتے ہیں۔ ٹلکایو کا جسم تقریباً 46 سینٹی میٹر لمبا اور وزن صرف 1.4 کلوگرام کے قریب ہے، یعنی یہ عام گھریلو بلی سے بھی چھوٹی ہے۔

اس کی کھال ہلکے بھورے رنگ کی ہے جس پر بے قاعدہ شکل کے نمایاں دھبے موجود ہیں۔ محققین کے مطابق ظاہری شکل میں دوسری جنگلی بلیوں سے مماثلت کے باعث اس کی الگ نوع کے طور پر شناخت آسان نہیں تھی۔

سائنس دانوں نے مختلف علاقوں سے حاصل کیے گئے 38 جنگلی بلیوں کے نمونوں کا جینیاتی تجزیہ کیا، جن میں عجائب گھروں میں محفوظ نمونے بھی شامل تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بلیوں کو پہلے ایک ہی گروہ سمجھا جاتا تھا، وہ دراصل جینیاتی طور پر پانچ الگ انواع پر مشتمل ہیں۔

جینیاتی شواہد کے مطابق ٹلکایو کا نسب دوسری قریبی جنگلی بلیوں سے تقریباً 14 لاکھ سال پہلے الگ ہوگیا تھا۔ اسی نمایاں جینیاتی فرق کی بنیاد پر محققین نے اسے الگ نوع قرار دیا اور اس کا سائنسی نام لیوپارڈس ٹلکایو رکھا، جبکہ مقامی نام ٹلکایو بھی برقرار رکھا گیا۔

محققین کے مطابق اس نئی بلی کے معمولات اور آبادی کے بارے میں فی الحال بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ کیمرہ ٹریپس سے حاصل شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رات کے وقت زیادہ سرگرم رہتی ہے، جبکہ فضلے کے نمونوں میں چھوٹے چوہوں کی باقیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کی خوراک کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

اب تک صرف دو زندہ ٹلکایو بلیوں کا براہِ راست جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک 10 سالہ نر بلی اس وقت بولیویا کے ایک جنگلی حیات مرکز میں موجود ہے۔ اسے ماضی میں ایک مقامی خاندان نے گھریلو بلی سمجھ کر اپنے پاس رکھا تھا، تاہم بعد میں اسے جنگلی نوع ہونے کے باعث مرکز منتقل کردیا گیا۔

تحقیق کے دوران پیرو کے یُنگاس علاقے میں جنگلی بلی کی ایک نئی ذیلی نوع کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس دریافت سے جنوبی امریکا میں ان ننھی جنگلی بلیوں کی جینیاتی اور ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مزید مدد ملی ہے۔

محققین نے نئی معلومات عالمی تحفظِ فطرت کے ادارے کے ساتھ بھی شیئر کردی ہیں تاکہ ان جنگلی بلیوں کی مختلف انواع کا الگ الگ تحفظاتی جائزہ لیا جاسکے۔ سائنس دانوں کے مطابق یُنگاس کے جنگلات کو جنگلات کی کٹائی، زرعی پھیلاؤ، انسانی سرگرمیوں سے لگنے والی آگ اور کان کنی جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی اہم مثال ہے کہ دنیا کے بعض نسبتاً معروف سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی ایسی انواع موجود ہوسکتی ہیں جن کی سائنسی طور پر ابھی مکمل شناخت نہیں ہوئی۔ ان جنگلات کے تحفظ اور مزید تحقیق سے ان نایاب جانوروں کے مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.