بہت گرم چائے اور کافی غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، تحقیق
لندن: چائے اور کافی دنیا بھر میں پسند کیے جانے والے مشروبات ہیں، تاہم ایک نئی تحقیق نے انہیں بہت زیادہ گرم درجہ حرارت پر پینے کے حوالے سے اہم خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیق کے مطابق بہت گرم چائے یا کافی کا مسلسل استعمال غذائی نالی کے ایک مخصوص قسم کے سرطان کے خطرے میں نمایاں اضافے سے منسلک پایا گیا ہے۔
برطانیہ میں ہونے والی اس تحقیق میں تقریباً 10 لاکھ درمیانی عمر کے افراد کا لگ بھگ 14 سال تک جائزہ لیا گیا۔ محققین نے ان افراد کے درمیان موازنہ کیا جو اپنی چائے یا کافی کو ’’بہت گرم‘‘ پینا پسند کرتے تھے اور وہ افراد جو اپنے مشروبات کو ’’گرم‘‘ قرار دیتے تھے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق بہت گرم مشروبات استعمال کرنے والے افراد میں غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کا خطرہ تقریباً تین گنا زیادہ پایا گیا۔ غذائی نالی وہ نالی ہے جو منہ کو معدے سے ملاتی ہے۔
محققین نے ’’بہت گرم‘‘ مشروبات کے لیے 65 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت مقرر کیا۔ یہی حد عالمی ادارہ برائے تحقیقِ سرطان کی جانب سے بھی بہت گرم مشروبات کو ممکنہ سرطان پیدا کرنے والے عوامل میں شمار کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
اس کے مقابلے میں عام طور پر چائے اور کافی کا درجہ حرارت تقریباً 50 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے، تاہم مشروب کی تیاری اور مختلف علاقوں میں اسے پینے کے طریقوں کے باعث درجہ حرارت میں فرق ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ چائے یا کافی پینے کے بجائے اس کے درجہ حرارت پر بھی توجہ دینا ضروری ہے، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو مشروبات بہت زیادہ گرم حالت میں پینے کے عادی ہیں۔