عالمی سطح پر پاکستان کا اعزاز، طاہر اشرفی کو ہبوبرٹ والٹر ایوارڈ مل گیا
لندن: پاکستان کے لیے ایک اہم اور قابلِ فخر عالمی اعزاز سامنے آیا ہے، پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو امن، مفاہمت اور بین المذاہب تعاون کے لیے خدمات کے اعتراف میں ہبوبرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن 2026 سے نواز دیا گیا۔
یہ باوقار عالمی اعزاز 11 ستمبر 2026 کو لندن کے تاریخی لیمبتھ پیلس میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران آرچ بشپ آف کینٹربری سارہ مُلالی نے مولانا طاہر اشرفی کو پیش کیا۔ یہ اعزاز ان کی امن، مفاہمت، بین المذاہب ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور انتہاپسندی و دہشت گردی کے خلاف طویل عرصے پر محیط خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
ہبوبرٹ والٹر ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد مولانا طاہر اشرفی یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مسلم مذہبی عالم بن گئے ہیں۔ اسے پاکستان کی مذہبی سفارت کاری، عالمی سطح پر مثبت تشخص اور امن کے پیغام کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
آرچ بشپ آف کینٹربری کی جانب سے یہ اعزاز پیش کیا جانا پاکستان کی مذہبی قیادت کی جانب سے امن، مفاہمت اور مختلف مذاہب کے درمیان تعاون کے لیے کی جانے والی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اعتراف سے یہ پیغام اجاگر ہوتا ہے کہ مذہبی قیادت مکالمے، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
مولانا طاہر اشرفی کی اس کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان کا ایک مثبت تشخص بھی اجاگر ہوا ہے، جس میں تقسیم کے بجائے مکالمے، تصادم کے بجائے تعاون اور تنازع کے بجائے امن کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مولانا طاہر اشرفی اس سے قبل او آئی سی گلوبل پیس ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ دونوں عالمی اعزازات کا حصول ان کی خدمات کو مسلم دنیا کے ساتھ ساتھ وسیع تر عالمی برادری کی جانب سے ملنے والی پذیرائی کی عکاسی کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق ہبوبرٹ والٹر ایوارڈ پاکستان کے لیے یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے علما، مذہبی قیادت، امن کے لیے کام کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے انتہاپسندی کے تدارک، تشدد کی روک تھام اور سماجی ہم آہنگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر نمایاں کرے۔
یہ اعزاز اس تصور کو بھی تقویت دیتا ہے کہ مذہب امن، مفاہمت اور انسانی وقار کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے اور ذمہ دار مذہبی قیادت مختلف مذاہب، برادریوں اور تہذیبوں کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
مولانا طاہر اشرفی کا یہ اعزاز محض ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے مثبت تشخص کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہے۔ کسی پاکستانی مسلم مذہبی عالم کو پہلی مرتبہ یہ مخصوص عالمی اعزاز ملنا پاکستان کی امن پسندی، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کے لیے ایک نمایاں عالمی اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔