کرم میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جن میں ایک افغان شہری بھی شامل ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کارروائی کرم کے علاقے میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں افغانستان کے صوبہ لوگر کے علاقے شاہ قلعہ سے تعلق رکھنے والا عبیداللہ سعد بھی شامل تھا، جو غلام غوث صالحی کا بیٹا تھا۔
ذرائع کے مطابق عبیداللہ سعد فتنۃ الخوارج سے وابستہ تھا اور پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ سکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرم میں کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی فورسز کی بھرپور تیاری اور صلاحیت کا ثبوت ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشتگرد گروہوں کے خطرات سے عوام کو محفوظ رکھنے میں سکیورٹی فورسز کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کیلئے جاری کارروائیوں کو بھی سراہا اور دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار اہلکاروں کو قومی فخر قرار دیا۔