عراق سے امریکی و اتحادی افواج کی واپسی شروع
بغداد: عراق میں داعش کے خلاف قائم امریکی قیادت والے بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے اختتامی مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی افواج نے ملک سے باقاعدہ انخلا شروع کردیا ہے۔ ابتدائی طور پر شمالی عراق کے علاقے کردستان میں موجود اتحادی فوجی تنصیبات سے اہلکاروں اور سازوسامان کی واپسی جاری ہے۔
عراقی حکام کے مطابق امریکا اور عراق کے درمیان 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت داعش کے خلاف اتحادی مشن کو ستمبر کے اختتام تک مکمل کیا جانا ہے، جس کے بعد ملک میں موجود تمام غیر ملکی اتحادی افواج کا انخلا متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عراق کے دیگر علاقوں سے واپسی کے مراحل مکمل ہونے کے بعد اتحادی فورسز کی موجودگی اب بنیادی طور پر اربیل بین الاقوامی ہوائی اڈے تک محدود رہ گئی تھی، جہاں سے بھی فوجی اہلکاروں اور متعلقہ سامان کی روزانہ کی بنیاد پر منتقلی شروع کردی گئی ہے۔
کردستان کے وزیر داخلہ ریبر احمد کے مطابق موجودہ معاہدے کے تحت اتحادی فورسز کو ستمبر کے اختتام تک عراق سے نکل جانا ہے اور اس فیصلے پر عملی پیش رفت شروع ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق کردستان کے علاقے میں بھی انخلا کا عمل جاری ہے اور فوجی اہلکاروں کو مرحلہ وار عراق سے باہر دیگر مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
امریکا اور عراق کے درمیان 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق داعش کے خلاف فوجی مشن کے اختتام کے بعد اتحادی افواج کو عراق سے واپس جانا ہے۔ موجودہ انخلا اسی معاہدے کے تحت کیا جا رہا ہے اور ستمبر کے اختتام تک اس عمل کی تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔