تازہ ترین

حوثیوں کا باب المندب پر قبضہ، عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل خطرے میں

0

صنعا: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے اثرات بحیرہ احمر تک پہنچ گئے ہیں، جہاں ایران کے حامی حوثیوں نے باب المندب کے انتہائی اہم جزیرے پریم پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی جہاز رانی، سعودی عرب کی تیل برآمدات اور پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی توانائی منڈی کے لیے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع قصبے دُھباب پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھی جاتی ہے۔ پریم جزیرہ اس آبنائے کے درمیان واقع ہے، اس لیے یہاں مستقل حوثی موجودگی سے خطے سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب آبنائے ہرمز بھی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس صورت حال میں بحیرہ احمر کا راستہ سعودی عرب اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے مزید اہم ہوگیا ہے، تاہم باب المندب میں بھی کشیدگی بڑھنے سے عالمی تیل کی رسد کو ایک نئے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب کے لیے صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ مملکت مشرقی علاقوں سے بحیرہ احمر تک خام تیل پہنچانے کے لیے مشرقی۔مغربی تیل پائپ لائن پر انحصار بڑھا رہی ہے۔ اس راستے کے ذریعے سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر اپنے تیل کو بحیرہ احمر کی جانب منتقل کرسکتا ہے۔

دوسری جانب مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی تصاویر میں سعودی عرب میں مذکورہ تیل پائپ لائن کے راستے کے قریب دھوئیں کے آثار بھی دیکھے گئے ہیں، تاہم اب تک آزادانہ طور پر یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ پائپ لائن کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی حکام نے بھی دھوئیں کو کسی حملے سے باضابطہ طور پر منسلک نہیں کیا۔

اس پیش رفت کے باوجود سعودی تیل کی ترسیل پر دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگست میں سعودی خام تیل کی پیداوار تقریباً 23 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوکر قریب 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے میں کم ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔

عالمی منڈی میں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں اور باب المندب میں مزید رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں رسد، جہاز رانی، بیمہ اور نقل و حمل کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی صرف پریم جزیرے تک محدود نہیں۔ گروپ نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر کے اہم ساحلی شہر موخا پر بھی قبضہ کیا، جبکہ ہنیش اور دیگر اہم جزائر کے اطراف بھی لڑائی اور پیش قدمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یمنی حکومت کی افواج نے دوبارہ کارروائی کرکے ان علاقوں کو واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔

یمنی حکومت کے مطابق حوثیوں کی اس پیش قدمی سے باب المندب پر ان کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر حوثی آبنائے کے دونوں اطراف موجودگی مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ بحیرہ احمر سے گزرنے والی عالمی جہاز رانی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔

حوثیوں کے حالیہ حملوں اور پیش قدمی میں ایران کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایران حوثیوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا اعتراف کرتا ہے، تاہم ان کی فوجی کارروائیوں کی براہ راست ہدایت دینے کی تردید کرتا ہے۔ دوسری جانب مختلف رپورٹس میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی جانب سے حوثیوں کو رہنمائی اور دیگر معاونت فراہم کیے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

اگر حوثیوں کی یہ پیش قدمی برقرار رہتی ہے تو یمن کا تنازع محض ایک مقامی جنگ نہیں رہے گا بلکہ یہ ایران اور امریکا کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی کا ایک اور اہم میدان بن سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب پہلے ہی اپنی توانائی تنصیبات اور تیل کی برآمدات کے تحفظ کے لیے دباؤ میں ہے۔

تازہ صورتحال نے عالمی سطح پر یہ خدشہ بھی بڑھا دیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی تیل اور تجارتی رسد کا ایک بڑا حصہ شدید رکاوٹ کا شکار ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات اور عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.