چین سے ایران کو رقوم منتقلی کا خفیہ نظام، امریکا کی ترک بینک پر پابندیاں
واشنگٹن: امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ترکیہ میں قائم ایک بینک اور اس سے وابستہ 2 مالیاتی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق مذکورہ اداروں نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی قدس فورس سے منسلک کروڑوں ڈالر مالیت کے مالی لین دین میں سہولت فراہم کی اور تہران کو بیرون ملک رقوم منتقل کرنے کے لیے بینکاری نظام تک رسائی دی۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ گولڈن گلوبل یاتریم بینک اور اس سے وابستہ اداروں نے ایران کے ایسے مالیاتی نیٹ ورک کو سہولت فراہم کی جس کے ذریعے ایرانی حکومت بیرون ملک اپنی آمدنی منتقل کرنے میں کامیاب رہی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک ایران کو امریکی پابندیوں اور مالیاتی نگرانی سے بچنے کے لیے متبادل راستے فراہم کرنے میں استعمال ہوتا رہا۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گولڈن گلوبل بینک کے قیام کا ایک مقصد ایران سے منسلک ایک خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنا تھا۔ اس نظام کے ذریعے چین سے حاصل ہونے والی ایرانی تیل کی آمدنی ترکیہ منتقل کی جاتی تھی، جہاں مبینہ طور پر ان رقوم کو بعد ازاں نقد رقم اور سونے میں تبدیل کیا جاتا تھا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے ایران اپنی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بین الاقوامی مالیاتی نظام میں منتقل کرنے کے قابل ہوا اور امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف مالیاتی راستوں کا استعمال کرتا رہا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ گولڈن گلوبل بینک اور اس سے منسلک اداروں نے ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے لین دین میں سہولت کاری کی۔
قدس فورس ایران کے پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں سے متعلق اہم یونٹ ہے اور امریکا اسے پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق ایران سے وابستہ ایسے مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کا مقصد تہران کے لیے بیرون ملک رقوم کی منتقلی اور اپنے علاقائی و عسکری پروگراموں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنا مشکل بنانا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ واشنگٹن ان مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کے معاملے میں سنجیدہ ہے جو امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی حکومت کی معاونت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران سے وابستہ ایسے مالیاتی ڈھانچوں کو برداشت نہیں کرے گا جو پابندیوں سے بچنے کے لیے بین الاقوامی بینکاری نظام کو استعمال کرتے ہیں۔
ترکیہ ایران کے لیے ایک اہم تجارتی اور مالیاتی رابطہ رکھنے والا ملک ہے، جس کے باعث ایرانی مالیاتی سرگرمیوں سے متعلق ترک ادارے ماضی میں بھی امریکی پابندیوں اور نگرانی کا مرکز بنتے رہے ہیں۔ تازہ پابندیاں بھی اسی تناظر میں اہم قرار دی جارہی ہیں کیونکہ واشنگٹن ایران کی بیرون ملک آمدنی اور مالیاتی روابط کو محدود کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف ممالک میں موجود کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور غیر رسمی مالیاتی نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھایا۔ نئی پابندیوں کا مقصد ان متبادل راستوں کو محدود کرنا اور ایران کے لیے عالمی مالیاتی نظام کے ذریعے رقوم کی منتقلی مزید مشکل بنانا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ کی پالیسی کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہوا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ایرانی تیل کی آمدنی، مالیاتی نیٹ ورکس اور ان اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی حکومت یا پاسداران انقلاب کے لیے مالی سہولت کاری کرتے ہیں۔
تازہ امریکی کارروائی بھی اسی وسیع تر معاشی دباؤ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران کی بین الاقوامی مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا، بیرون ملک آمدنی کی منتقلی کے راستے بند کرنا اور تہران کے لیے اپنے علاقائی و عسکری پروگراموں کی مالی معاونت مشکل بنانا ہے۔