تازہ ترین

یمن میں لڑائی پھر شدت اختیار کرگئی، 100 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع

0

یمن میں حوثی ملیشیا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان کئی محاذوں پر دوبارہ شدید لڑائی شروع ہوگئی ہے، جبکہ مختلف ذرائع نے جھڑپوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق تعز کے مغربی علاقوں اور حدیدہ کے جنوب میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ حوثی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ تعز اور حدیدہ کے درمیان مختلف محاذوں پر لڑائی میں حوثی جنگجوؤں اور یمنی حکومتی فوج کے 100 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کی صبح مغربی تعز کے متعدد محاذوں پر حکومتی فورسز کے خلاف اچانک حملے کیے۔ میزائل اور ڈرونز کے استعمال کے بعد زمینی لڑائی شروع ہوئی، جسے مقامی ذرائع نے 2022 کے بعد علاقے کی شدید ترین جھڑپوں میں شمار کیا۔

حوثی جنگجوؤں نے مقبانہ، موزعہ اور جبل حبشی کے علاقوں میں کئی محاذوں پر پیش قدمی کی، جس کے باعث مقامی آبادی کے ایک بار پھر نقل مکانی کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب یمنی حکومتی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے حوثیوں کو پسپائی پر مجبور کرتے ہوئے بعض مقامات کا کنٹرول واپس حاصل کرلیا ہے۔ یمنی فوج کے میڈیا سینٹر کے مطابق جمعرات کی جھڑپوں میں کم از کم 18 حوثی جنگجو ہلاک جبکہ متعدد زخمی یا گرفتار ہوئے۔

ایک فوجی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ لڑائی میں 13 حکومتی اہلکار بھی مارے گئے۔

یمنی فوج کے مطابق حوثیوں نے تعز اور حدیدہ کے علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے 14 بیلسٹک میزائل داغے اور متعدد ڈرونز بھی استعمال کیے۔ حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ حملوں کا ایک اہم مقصد تعز شہر کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے اور المخا بندرگاہ سے ملانے والی مرکزی سڑک کو کاٹنا تھا۔

المخا بندرگاہ بحیرہ احمر کے جنوبی ساحل پر ایک اہم مقام ہے اور تعز سے اس تک جانے والی سڑک حکومتی فورسز کے لیے رسد پہنچانے کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حوثی اس راستے پر مؤثر کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو تعز میں موجود حکومتی فورسز ساحلی علاقوں سے الگ ہوسکتی ہیں۔

حالیہ جھڑپوں کے باعث عام شہری بھی محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ الجزیرہ کے مطابق جبل حبشی کے قریب ایک کیمپ میں موجود تقریباً 300 خاندان دوبارہ نقل مکانی کرگئے۔

یمن میں جاری طویل جنگ نے پہلے ہی ملک کے بنیادی ڈھانچے اور خوراک و صحت کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.