تازہ ترین

سرفراز احمد نے ٹیم کی ناکامی کی ذمہ داری خود قبول کرلی

0

انگلینڈ کے دورے پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مسلسل خراب کارکردگی کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ناکامی کی ذمہ داری خود قبول کرلی۔ ان کا کہنا ہے کہ بیٹنگ میں مسائل واضح ہیں اور کھلاڑیوں سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں، تاہم مشکل وقت میں وہ سارا ملبہ کسی ایک کھلاڑی پر ڈالنے کے بجائے پوری ٹیم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم میں ملک کے بہترین کھلاڑی شامل ہیں اور موجودہ خراب فارم کو دیکھتے ہوئے کسی ایک کھلاڑی کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹیم کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا ہے، لیکن انتظامیہ اور کھلاڑی مل کر اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ہیڈ کوچ نے محمد رضوان، سعود شکیل اور سلمان علی آغا کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے ماضی میں پاکستان کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس وقت ان کے بلے سے مطلوبہ رنز نہیں بن رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ فارم کو مستقل معیار نہیں سمجھا جاسکتا اور مشکل وقت میں کھلاڑیوں کو اعتماد اور سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ وہ مشکل حالات میں کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی ایک کھلاڑی پر ناکامی کا الزام عائد نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق سیریز مکمل ہونے کے بعد ٹیم انتظامیہ باقاعدہ طور پر مجموعی کارکردگی کا جائزہ لے گی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کن کھلاڑیوں کو ٹیم میں برقرار رکھا جائے اور کن کھلاڑیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہیڈ کوچ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جب بیٹنگ کا شعبہ اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو بعض اوقات بولنگ میں مشکلات سامنے آجاتی ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال میں بیٹنگ کا شعبہ زیادہ مشکلات کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹیم کو دونوں شعبوں میں مستقل اور متوازن کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام کھلاڑی محنت کررہے ہیں اور وہ اچھے لڑکے ہیں، تاہم صرف محنت کافی نہیں بلکہ اس محنت کے نتائج بھی میدان میں نظر آنے چاہئیں۔ پاکستان ایک پیشہ ور کرکٹ ٹیم ہے اور عالمی سطح پر اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے کارکردگی دکھانا ہوگی۔

سرفراز احمد نے کھلاڑیوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپس جاکر اپنی خامیوں پر کام کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں مسلسل اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کے لیے کھلاڑیوں کو اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے ان پر محنت کرنا ہوگی، کیونکہ تکنیک اور فارم میں بہتری کے لیے مسلسل مسابقتی کرکٹ کھیلنا ضروری ہے۔

ہیڈ کوچ نے واضح کیا کہ ٹیم انتظامیہ سیریز کے اختتام پر تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور مستقبل کے لیے فیصلے کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر ٹیم کی موجودہ خراب کارکردگی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایک کھلاڑی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.