تازہ ترین

جنگ کے معاشی نقصانات کے باوجود آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھیں گے: ایران

0

ایران نے امریکا کے ساتھ جاری طویل جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید معاشی دباؤ اور اندرونی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے معیشت کو سنبھالنے کے لیے نئی ترجیحات طے کرلی ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ضرور ہے، تاہم تہران دباؤ برداشت کرنے، مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی پالیسی پر قائم ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے حکومت کو جنگ کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور عوام کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے، مارکیٹ کو مستحکم رکھنے اور عوامی مشکلات کم کرنے کو اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق امریکی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی بیرونی تجارت میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ اور پابندیوں نے ایران کی معیشت پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے، جس کے اثرات تجارت، مارکیٹ اور عوامی زندگی پر بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔

تہران کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی دباؤ کے باوجود ایران اپنی پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک معاشی مشکلات کا مقابلہ کرے گا اور ساتھ ہی مذاکرات کے ذریعے کسی ممکنہ حل کی کوشش بھی جاری رکھے گا، تاہم آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا ایران کی اہم ترجیحات میں شامل رہے گا۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جسے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی کے وسائل کی ترسیل میں اس راستے کا اہم کردار ہے، جس کے باعث اس کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

ایران کے لیے آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ تہران کی جانب سے اس بحری گزرگاہ پر کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم نے خطے میں جاری جنگ اور عالمی توانائی کی صورتحال کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری بیانات میں جنگ اور امریکی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات کو حکومت کی بنیادی تشویش قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے مہنگائی میں کمی، مارکیٹ کے استحکام، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ملکی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کی اقتصادی پالیسی میں بتدریج امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کو بھی اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد ملکی معیشت کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانا اور پابندیوں کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے چھ ماہ بعد بھی مذاکرات کے حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی اور فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ اس صورتحال نے جنگ کے خاتمے اور خطے میں مستقل امن کے امکانات کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ امریکی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد ایران کی آمدنی اور مالی وسائل کو محدود کرکے تہران پر مذاکرات کے لیے مزید دباؤ ڈالنا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.