تازہ ترین

دعوت ملی تو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوں گے: بنگلہ دیش

0

ڈھاکا- بنگلہ دیش نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکانات پر مثبت اشارہ دے دیا۔ وزیر خارجہ خلیل الرحمن نے کہا ہے کہ اگر ڈھاکا کو معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو بنگلہ دیش اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا اور ممکنہ فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمن نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، کیونکہ اس معاملے کا انحصار معاہدے کے بانی ممالک کی خواہش اور دعوت پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ دعوت موصول ہونے کی صورت میں بنگلہ دیش معاملے پر غور کرے گا اور اس کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لینے کے بعد اپنی پوزیشن طے کرے گا۔

خلیل الرحمن نے مکہ معاہدے کو مسلم دنیا کے لیے اجتماعی دفاع اور سکیورٹی کے نظام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم ممالک کے باہمی تعاون سے متعلق معاملہ ہے۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر بھی کہہ چکے ہیں کہ ڈھاکا نے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون اور اجتماعی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے میں یہ اصول بھی شامل ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

دوسری جانب ترکیہ کی جانب سے پہلے ہی توقع ظاہر کی جا چکی ہے کہ مصر آئندہ مرحلے میں مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ اب بنگلہ دیش کی جانب سے بھی ممکنہ شمولیت پر مثبت غور کے بیان کے بعد معاہدے کے دائرہ کار میں مزید توسیع کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.