تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا 31 دسمبر تک تمام پیداواری شعبوں میں سیلز ٹیکس مانیٹرنگ مکمل کرنے کا حکم

0

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ رواں سال 31 دسمبر تک تمام پیداواری شعبوں میں سیلز ٹیکس مانیٹرنگ کا نظام مکمل طور پر فعال کیا جائے اور خودکار نظام کی تنصیب میں حائل رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس میں پیداواری شعبوں میں ٹیکس مانیٹرنگ سسٹم اور ملک کی ممکنہ ٹیکس وصولیوں اور حقیقی وصولیوں کے درمیان فرق پر تفصیلی رپورٹس پیش کی گئیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ کیمروں کی مدد سے پیداواری عمل کی نگرانی کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین سے ٹیکس وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے اپنی جیب میں رکھنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

وزیراعظم نے ان صنعتوں کے اقدام کو سراہا جنہوں نے رضاکارانہ طور پر مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا۔ انہوں نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ سیمنٹ کے شعبے میں پیداواری مانیٹرنگ سسٹم کی آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں دیگر متعلقہ شعبوں میں بھی نظام کی افادیت کا جائزہ لیا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس کی مکمل استعداد کے مطابق وصولیاں عوام کی حقیقی خدمت ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن ٹیم کی جانب سے ممکنہ ٹیکس استعداد اور حقیقی وصولیوں کے درمیان فرق پر جامع رپورٹ تیار کرنے کو سراہا۔

کن شعبوں میں مانیٹرنگ سسٹم نصب ہوچکا ہے؟

اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ٹیکس مانیٹرنگ سسٹم مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے۔ ٹیکسٹائل، پیک شدہ پانی، جوس اور دودھ کے شعبوں میں بھی تنصیب کا عمل جاری ہے، جبکہ متعلقہ آلات کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق اسٹیل، پولٹری اور ٹائروں کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، پیپر اینڈ بورڈ اور آئل و گھی کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 30 اکتوبر تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

حکومت کے مطابق ان تمام شعبوں میں مانیٹرنگ سسٹم رواں سال 31 دسمبر تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔

متعدد صنعتی اداروں نے رضاکارانہ طور پر نظام نصب کیا

اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل کے بعض صنعتی اداروں کی جانب سے مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب پر مزاحمت سامنے آئی، تاہم نشاط ملز، الکرم ٹیکسٹائل، الکرم کاٹن ملز، جے کے اسپننگ ملز، سورتی انٹرپرائزز، انٹرلوپ لمیٹڈ، فیصل اسپننگ ملز، ابراہیم فائبرز لمیٹڈ، سیفائر ٹیکسٹائلز لمیٹڈ اور نشاط چونیاں نے رضاکارانہ طور پر یہ نظام نصب کیا ہے۔

وزیراعظم نے ان اداروں کے تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

تین سال میں 1300 ارب روپے اضافی ٹیکس وصولی

اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران حکومتی اقدامات کے نتیجے میں 1300 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا، جو ٹیکس وصولیوں میں 40 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

حکام نے بتایا کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد اور نفاذ کے اقدامات کے ذریعے اضافی وصولیاں ممکن ہوئیں۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن ٹیم کی محنت کو سراہا اور ٹیکس استعداد سے متعلق رپورٹ تیار کرنے والے افراد میں تعریفی شیلڈز بھی تقسیم کیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.