تازہ ترین

مسجد اقصیٰ میں آباد کاروں کی آمد بڑھ گئی، فلسطینی دکانداروں کو بھی مشکلات

0

مقبوضہ مغربی کنارہ: فلسطینی آبادی کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں اور پابندیوں کے باعث مقبوضہ مغربی کنارے میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں، جہاں ایک جانب آباد کار فلسطینی آبادیوں اور املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب مسجد اقصیٰ میں داخلے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔

نابلس کے قریب جالود گاؤں میں 100 سے زائد اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی گھروں، گاڑیوں اور دیگر املاک پر حملہ کیا۔ واقعے کے دوران دو فلسطینی گھروں کو آگ لگا دی گئی جبکہ ایک بے گھر فلسطینی خاندان کو اپنے گھر واپس جانے سے بھی روک دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر کے وسط تک ایک ہفتے کے دوران آباد کاروں کے 51 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں فلسطینیوں کو جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ اس دوران سیکڑوں درخت تباہ، اکھاڑے یا جلا دیے گئے۔

دوسری جانب یہودی مذہبی تہوار سُکّوت کے دوران مسجد اقصیٰ کے احاطے میں بھی اسرائیلی آباد کاروں کی آمد میں اضافہ ہوا۔ 27 ستمبر کو فلسطینی اوقاف کے مطابق 1,143 آباد کار اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے اور وہاں مذہبی رسومات ادا کیں۔

28 ستمبر کو بھی آباد کاروں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئی، جبکہ مشرقی یروشلم کے پرانے شہر میں فلسطینی دکانداروں کو اپنی دکانیں بند رکھنے کے احکامات کا سامنا کرنا پڑا۔

اقوام متحدہ کے مطابق آباد کاروں کے حملوں، اسرائیلی فوجی کارروائیوں، نقل و حرکت پر پابندیوں اور مکانات کی مسماری کے باعث مغربی کنارے میں فلسطینی خاندانوں کی نقل مکانی اور انسانی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ رواں سال جنوری سے ستمبر کے وسط تک آباد کاروں کے 1,600 سے زائد ایسے حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.