نیویارک-وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید اسلامی ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے، تاہم کسی نئے ملک کو شامل کرنے کا حتمی فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی مشاورت سے کریں گے۔
ایران کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق معاہدے میں شامل ہونے والے ہر ملک کا مقصد خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی اسلامی ممالک نے معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم رکنیت سے متعلق حتمی فیصلہ موجودہ تینوں رکن ممالک کی باہمی رضامندی سے ہوگا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے میں ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنے کی شق بھی شامل ہے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ معاہدے کے تحت ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جبکہ اس کے انتظامی اور دفتری ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ملاقاتیں ہونا مثبت بات ہے، کیونکہ کشیدگی کے دوران رابطے برقرار رہنا کسی ممکنہ حل کی امید کو قائم رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب فریقین کے درمیان بات چیت اور رابطوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اختلافات کے حل کی گنجائش برقرار رہتی ہے، جبکہ رابطے منقطع ہونے سے سفارتی حل کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔