اسلام آباد-وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے صارفین کے لیے موجودہ سلیب پر مبنی گیس سبسڈی نظام ختم کرکے یکساں قیمتوں کا ماڈل متعارف کرانے کی تجویز دے دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ منصفانہ اور یکساں گیس قیمت اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ صارفین کو متبادل توانائی کی جانب منتقل ہونے سے بھی روک سکتی ہے۔
کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کے بورڈ ارکان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم نے صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہدفی سماجی تحفظ کے پروگرامز پر انحصار کرنے کی حمایت کی۔
انہوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کو ہدایت کی کہ یو ایف جی (Unaccounted for Gas) پر قابو پانے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے جامع حکمت عملی اور پائیدار کاروباری ماڈل تیار کیا جائے تاکہ کمپنی کو مالی طور پر مستحکم ادارے میں تبدیل کیا جاسکے اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح حاصل رہے۔
اجلاس میں کمپنی کی کارکردگی، اہم کامیابیوں، آپریشنل مشکلات اور مستقبل میں اصلاحات کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔ کمپنی کے چیئرمین بورڈ نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا، جبکہ مینیجنگ ڈائریکٹر نے کمپنی کی پیش رفت، کامیابیوں اور درپیش چیلنجز سے وزیر کو آگاہ کیا۔
انتظامیہ نے بتایا کہ کمپنی کے گیس ڈسٹری بیوشن سسٹم میں نمایاں بہتری آئی ہے اور حجمی اعتبار سے یو ایف جی میں تقریباً 57 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک، صنعتی صارفین اور کھاد کے کارخانوں کے لیے گیس لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی، جبکہ گھریلو صارفین کو دن میں تین مرتبہ گیس فراہم کی جارہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ گیس کے گردشی قرضے میں اضافے کو تقریباً روک دیا گیا ہے، جو گیس کے شعبے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ پر زور دیا کہ کمپنی کو خود کفیل بنانے، آپریشنل کارکردگی بہتر کرنے، انسانی وسائل کی صلاحیت بڑھانے، نقصانات اور گیس چوری کم کرنے، آمدنی کی وصولی مضبوط بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے جامع کاروباری اصلاحاتی حکمت عملی تیار کی جائے۔
سیکریٹری پٹرولیم نے اجلاس میں زور دیا کہ بورڈ اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (SOE) ایکٹ کی روح کے مطابق آزادانہ طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کمپنی کی بہتری، کارکردگی اور طویل مدتی پائیداری کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔
وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ حکومت عالمی بینک کے ساتھ مل کر گیس کے شعبے میں جامع اصلاحات پر کام کررہی ہے، جن کا مقصد ساختی مسائل کو حل کرکے گیس سیکٹر کو زیادہ مؤثر، پائیدار اور مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کے دوران سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ نے نائب وزیراعظم کے زیر نگرانی بلوچستان کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے قائم سیاسی کمیٹی کا خیرمقدم کیا اور اسے صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔
وزیر پٹرولیم نے بلوچستان میں گیس کی فراہمی سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تکنیکی مشکلات، انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں اور گیس چوری کے خاتمے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے صوبے میں گیس کی دستیابی اور سروس ڈلیوری بہتر بنانے کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔