مومل شیخ:اداکاری سے پروڈکشن اور کاروبار تک، مومل شیخ کا منفرد سفر
کراچی: ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولنا جہاں شوبز پہلے ہی خاندان کی پہچان بن چکا ہو، کامیابی کا راستہ آسان ضرور دکھا سکتا ہے لیکن اپنی الگ شناخت قائم کرنا ایک مختلف چیلنج ہوتا ہے۔ اداکارہ مومل شیخ کا فنی سفر بھی اسی خاندانی پہچان اور ذاتی جدوجہد کے درمیان اپنی جگہ بنانے کی کہانی ہے۔
سینئر اداکار جاوید شیخ کی بیٹی اور اداکار شہزاد شیخ کی بہن مومل شیخ پاکستان کے معروف شوبز خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے لیے انڈسٹری کا ماحول اجنبی نہیں تھا، تاہم ان کے کیریئر کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا رہا کہ معروف خاندانی نام نے ان کے سفر میں کتنا کردار ادا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مومل شیخ نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز اداکاری سے نہیں بلکہ کیمرے کے پیچھے کیا۔ وہ ابتدا میں ایک ٹیلی ویژن چینل میں انٹرن رہیں جہاں انہیں ڈائریکشن اور پروڈکشن کے شعبوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔
بعدازاں اہل خانہ کی حوصلہ افزائی پر انہوں نے اداکاری کی جانب قدم بڑھایا۔ ٹیلی ویژن پر کام کرنے کے بعد ان کا سفر فلم تک پہنچا اور 2016 میں انہوں نے بالی ووڈ فلم ’ہیپی بھاگ جائے گی‘ کے ذریعے بھارتی فلم انڈسٹری میں بھی کام کیا۔
مومل شیخ اپنے معروف خاندان سے ملنے والے فائدے کا مکمل انکار نہیں کرتیں، تاہم وہ اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ خاندانی نام شناخت تو دے سکتا ہے لیکن کام ملنے کی ضمانت نہیں۔
انہوں نے 2024 میں ایک گفتگو کے دوران اقربا پروری سے متعلق بحث پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے والد جاوید شیخ انہیں کام دلوانے کے لیے فون نہیں کرتے۔ ان کے مطابق معروف نام کی وجہ سے لوگ انہیں جانتے ضرور ہیں لیکن ہر کردار حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنی صلاحیت ثابت کرنا پڑتی ہے۔
مومل شیخ اس بات کا بھی اعتراف کرچکی ہیں کہ ان کے والد نے اپنے طویل فنی کیریئر کے ذریعے کامیابی کا معیار بہت بلند کردیا ہے اور وہ خود بھی اس مقام تک پہنچنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
اداکاری کے ساتھ مومل شیخ نے پروڈکشن میں بھی قسمت آزمائی۔ فلم ’وجود‘ کی پروڈکشن میں ان کا کردار رہا، جسے انہوں نے ایک ایسا خطرہ قرار دیا تھا جو بالآخر ان کے لیے مثبت تجربہ ثابت ہوا۔
ان کی دلچسپی صرف اداکاری اور پروڈکشن تک محدود نہیں رہی۔ کورونا وبا کے دوران انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کاروباری سرگرمی بھی شروع کی، جس سے ان کے کیریئر کا ایک مختلف پہلو سامنے آیا۔
مومل شیخ کے مطابق وہ کسی بھی نئے پراجیکٹ کے انتخاب میں صرف اسکرین پر نظر آنے کو ترجیح نہیں دیتیں بلکہ اسکرپٹ، کہانی اور ساتھ کام کرنے والے فنکاروں کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔
ٹیلی ویژن میں انٹرن شپ سے اداکاری، پاکستانی ڈراموں سے بالی ووڈ، پھر پروڈکشن اور کاروبار تک ان کا سفر مختلف شعبوں پر محیط رہا ہے۔
مومل شیخ کے فنی سفر کا نمایاں پہلو یہی ہے کہ انہوں نے اپنے معروف خاندانی پس منظر کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ اپنی الگ پیشہ ورانہ شناخت بنانے کی کوشش جاری رکھی ہے۔