تازہ ترین

مٹی دے باوے: ماہرہ خان اور وہاج علی کی نئی جوڑی نے توجہ حاصل کرلی

0

کراچی: ماہرہ خان اور وہاج علی کی پہلی مکمل ڈرامہ جوڑی نے نئے پراجیکٹ ’مٹی دے باوے‘ کے ابتدائی مناظر ہی سے شائقین کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔ دونوں اداکار پہلی مرتبہ ایک مکمل ڈرامے میں ایک ساتھ نظر آئیں گے، جبکہ کہانی کے ابتدائی اشارے روایتی رومانوی داستان کے بجائے محبت، طاقت، سماجی فاصلے، انتقام اور جذباتی کشمکش کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

گرین انٹرٹینمنٹ کی اس پروڈکشن میں ماہرہ خان پہلی مرتبہ اس چینل کے ڈرامے میں نظر آئیں گی، جبکہ وہاج علی کے ساتھ ان کی جوڑی بھی ناظرین کے لیے ایک نیا تجربہ ہوگی۔

پروموشنل جھلکیوں میں ماہرہ خان کا کردار خاصا مختلف دکھائی دیتا ہے۔ ان کے کردار میں ایک پراسرار اور بااختیار پہلو نظر آتا ہے، جس نے شائقین کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ آخر اس کردار کی زندگی میں ایسا کیا ہوا جس نے اسے اس قدر تبدیل کردیا۔

دوسری جانب وہاج علی بھی روایتی رومانوی ہیرو کے بجائے مختلف انداز میں دکھائی دے رہے ہیں۔ داڑھی، جسمانی تبدیلی اور سنجیدہ حلیے کے ساتھ ان کے کردار میں ایک ایسی شخصیت دکھائی دیتی ہے جو ماضی کے کسی تجربے کے اثرات اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔

ڈرامے کی ابتدائی جھلکیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہانی میں محبت کے ساتھ ساتھ سماجی تقسیم، طاقت، نقصان، انتقام اور کرداروں کی تبدیلی کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ ایکشن اور جذباتی مناظر بھی اس پروجیکٹ کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرہ خان اور وہاج علی کے کرداروں کے درمیان ماضی کا تعلق بھی کہانی کا اہم پہلو معلوم ہوتا ہے۔ دونوں کردار اگر ماضی میں ایک دوسرے سے محبت کرتے رہے ہیں تو وقت گزرنے کے بعد ان کی دوبارہ ملاقات کہانی میں نئی پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے۔

پراجیکٹ کی بصری پیشکش بھی روایتی فیملی ڈراموں سے مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ جدید ناظرین کی بدلتی پسند کے تناظر میں سنیماٹک انداز، پیچیدہ کردار، ایکشن اور رومانوی عناصر پر مشتمل یہ ڈرامہ پاکستانی ٹیلی ویژن کی روایتی پیشکش سے ہٹ کر نظر آنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

ماہرہ خان نے اداکاری کے ساتھ مختلف شعبوں میں بھی کام کیا ہے، جبکہ وہاج علی بھی مختلف نوعیت کے کرداروں کے ذریعے اپنی اداکاری کے کئی پہلو دکھا چکے ہیں۔ اب دونوں کی یہ نئی جوڑی اس ڈرامے کے ذریعے ناظرین کے سامنے ایک مختلف انداز پیش کرنے جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.