تازہ ترین

خواتین کی معاشی خودمختاری کیلئے بلاسود قرضے اور ادارہ جاتی تعاون ضروری ہے: گورنر بلوچستان

0

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمتیں ہر فرد کو فراہم کرنا ممکن نہیں، اس لیے نوجوانوں کو کاروبار کے مواقع اور مالی معاونت فراہم کرکے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار شروع کرنے والے نوجوان نہ صرف اپنی آمدن کا ذریعہ بن رہے ہیں بلکہ دیگر افراد کیلئے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

گورنر بلوچستان نے ان خیالات کا اظہار گورنر ہاؤس کوئٹہ میں خواتین کاروباری شخصیات کیلئے پائیدار کاروباری ماحول کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے نوجوانوں اور خواتین کو مالی معاونت، تربیت اور کاروباری سہولیات فراہم کرنے سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں تیل، کڑھائی، دستکاری اور کھجور سمیت مختلف صنعتوں سے سیکڑوں افراد کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سطح پر موجود کاروباری صلاحیتوں کو بہتر مواقع فراہم کرکے مزید لوگوں کو معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

گورنر نے وزیراعظم پاکستان پروگرام کے تحت خواتین کو بلاسود قرضوں کی فراہمی اور کاروباری خواتین کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے اقدامات کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق مضبوط ادارہ جاتی معاونت اور مالی سہولیات خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس خاندان میں ایک پڑھی لکھی اور باصلاحیت خاتون موجود ہو، وہاں پورے خاندان کی تربیت اور مستقبل پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی، مالی وسائل اور کاروباری مواقع فراہم کرنا معاشی خودانحصاری کے ساتھ ساتھ خاندانوں کی مجموعی بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

جعفر خان مندوخیل نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کی سرگرمیوں کو دیہی علاقوں تک مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کی خواتین بھی قرضوں، تربیت اور کاروباری سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ ڈھائی برس کے دوران امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہوئی ہے، تاہم حکومت حالات پر قابو پانے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ گورنر نے شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع متعلقہ ریاستی اداروں کو دی جانی چاہیے۔

گورنر بلوچستان نے باغات میں فائرنگ سمیت کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں باغ مالکان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری آگاہ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بہتری کیلئے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

سیمینار میں وفاقی وزیر برائے ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سمیہ راحیل قاضی، مشیر وزیر اعلیٰ ربابہ بلیدی، سابق سینیٹر روشن خورشید بروچہ، نادر گل بڑیچ، ڈاکٹر طاہر رشید، پارلیمانی سیکرٹری محمد خان لہڑی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں خواتین کی تربیت مکمل ہونے پر اسناد، بلاسود قرضوں کے چیکس اور اعزازات بھی تقسیم کیے گئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.