تازہ ترین

افغان شہریوں کو پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کا مستقل حق حاصل نہیں: بلوچستان ہائیکورٹ

0

کوئٹہ: پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان شہریوں کے تعلیمی مستقبل سے متعلق اہم عدالتی فیصلہ سامنے آگیا۔ بلوچستان ہائیکورٹ نے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں افغان شہریوں کی تعلیم جاری رکھنے سے متعلق آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کو ریاستی پالیسی کے برخلاف پاکستان میں تعلیم یا تربیت جاری رکھنے کا مستقل قانونی حق حاصل نہیں۔

آئینی درخواست نمبر 1334 آف 2026 کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس عبدالقیوم لہڑی پر مشتمل بنچ نے کی۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے افغان شہریوں کی میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں تعلیم جاری رکھنے کی استدعا مسترد کردی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ غیر ملکی شہریوں سے متعلق امیگریشن، ان کی واپسی اور قومی سلامتی جیسے معاملات بنیادی طور پر انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ عدالت نے افغان شہریوں کے میڈیکل اداروں میں داخلے، منتقلی اور انہیں تعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق حکومتی ہدایات میں مداخلت سے بھی گریز کیا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ کسی غیر ملکی شہری کو پاکستان میں تعلیم یا تربیت جاری رکھنے کا ایسا مستقل حق حاصل نہیں جسے ریاستی پالیسی کے برخلاف برقرار رکھا جاسکے۔ عدالت کے مطابق انسانی بنیادوں پر کسی فرد کو پاکستان میں قیام یا تعلیم جاری رکھنے کی اجازت ملنے سے بھی ایسا مستقل قانونی حق پیدا نہیں ہوتا جو ریاستی پالیسی پر غالب آجائے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے تاہم انسانی پہلو کو بھی واضح طور پر مدنظر رکھا اور قرار دیا کہ افغان شہریوں کے ساتھ انسانی وقار، انصاف اور قانون کے مطابق سلوک کیا جانا ضروری ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اختیار استعمال کرتے وقت متاثرہ افراد کے بنیادی انسانی اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے درخواست گزاروں کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے افغانستان کے سفارتخانے سے رجوع کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کے تعلیمی معاملات سے متعلق قانونی پوزیشن مزید واضح ہوگئی ہے۔ فیصلے میں غیر ملکی شہریوں کے تعلیمی حقوق، ریاستی پالیسی، قومی سلامتی اور انتظامیہ کے اختیارات کے درمیان قانونی حدود کو بھی واضح کیا گیا ہے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ امیگریشن اور غیر ملکی شہریوں سے متعلق پالیسی کے نفاذ کا بنیادی اختیار انتظامیہ کے پاس ہے، جبکہ عدالت اس وقت مداخلت نہیں کرے گی جب معاملہ ریاستی پالیسی اور انتظامی اختیار کے دائرے میں آتا ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.