تازہ ترین

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے لاہور میں ناروا سلوک ناقابل قبول ہے: بیرسٹر گوہر

0

راولپنڈی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب کے دوران سیکیورٹی سے متعلق معاملے نے سیاسی ماحول میں ایک بار پھر تناؤ پیدا کردیا ہے۔ پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ اس نوعیت کا رویہ بین الصوبائی تعلقات میں مزید تلخی اور نفرت کو جنم دے سکتا ہے۔

اڈیالہ جیل کے قریب ڈھوک دگال چیک پوسٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سہیل آفریدی کو لاہور میں مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ایک گاڑی میں لے جاکر بغیر سیکیورٹی ایک چوک پر چھوڑ دیا گیا، جو ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سہیل آفریدی ایک صوبے کے منتخب چیف ایگزیکٹو ہیں اور کسی بھی پولیس ادارے کو اپنے قانونی اختیار سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے لاہور میں پیش آنے والے واقعے کو غلط قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس سے معذرت کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے صوبے کے وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران سیکیورٹی فراہم کرنا متعلقہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی بارہا واضح کرچکی ہے کہ وہ پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اپنے حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔ ان کے مطابق پارٹی کارکن غیر مسلح ہیں اور ملک میں سیاسی و آئینی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

انہوں نے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی بانی عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ منگل کا دن ان کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم کی ملاقات کے لیے مقرر تھا، تاہم ان کے مطابق اہل خانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی صحت سے متعلق عدالتی احکامات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم ان کے بقول اس حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو ایک عدالت سے دوسری عدالت تک منتقل کرکے آئینی بحران کی شکل نہیں دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حساس معاملے پر سنجیدگی اور واضح طریقہ کار کے تحت پیش رفت ہونی چاہیے۔

حکومت کے ساتھ مبینہ پسِ پردہ رابطوں سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فی الحال حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہے اور موجودہ حالات میں بیک ڈور رابطوں کے لیے بھی ماحول سازگار نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بات چیت ہونی چاہیے تاکہ معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ سکیں۔

انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ جیل میں ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ بیرسٹر گوہر نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ پی ٹی آئی بانی سے کسی اعلیٰ شخصیت یا دیگر اہم شخصیات نے ملاقات کی ہے۔

27 ستمبر کی احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی یا سڑکیں بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکن پرامن انداز میں آئیں گے اور دیگر شہریوں کے لیے راستے کھلے رہیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے ایک بار پھر کہا کہ پی ٹی آئی کارکن پرامن اور غیر مسلح ہیں اور ان کا مطالبہ انصاف اور اپنے حقوق کا حصول ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.