ایران امریکی مخالفت کے باوجود IAEA جنرل کمیٹی کا رکن منتخب
ویانا: ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر جاری کشیدگی کے باوجود تہران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی جنرل کانفرنس کی جنرل کمیٹی میں جگہ حاصل کرلی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق رکن ممالک کی ووٹنگ کے نتیجے میں ایران کو کمیٹی کا رکن منتخب کیا گیا۔
ایرانی مشن کے مطابق انتخاب کے مرحلے میں رکن ممالک نے ایران کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے ایران کے انتخاب کو روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔
ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے ترجمان بہروز کمال واندی کے مطابق امریکی مخالفت کے باوجود ایران کا انتخاب عمل میں آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران کو اب بھی بعض بین الاقوامی فورمز پر رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور IAEA کے ساتھ اس کے تعاون پر عالمی سطح پر شدید توجہ مرکوز ہے۔ چند روز قبل ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ محمد اسلامی کو IAEA جنرل کانفرنس میں شرکت کے لیے سفری استثنا نہ ملنے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔
ایرانی حکام نے اسلامی کو اجلاس میں شرکت سے روکنے کے اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے اسے رکن ملک کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اسے IAEA کے اجلاسوں میں مکمل اور مؤثر شرکت کا حق حاصل ہے۔
IAEA کی جنرل کانفرنس کی جنرل کمیٹی ادارے کے انتظامی اور طریقہ کار سے متعلق معاملات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایران کی اس کمیٹی میں شمولیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تہران کے جوہری پروگرام، عالمی پابندیوں اور ایٹمی نگرانی کے معاملات پر بین الاقوامی سطح پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران کا انتخاب اس کے لیے سفارتی اعتبار سے بھی اہم سمجھا جارہا ہے، تاہم اس سے ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع پر موجود بنیادی اختلافات فوری طور پر ختم ہونے کا امکان ظاہر نہیں ہوتا۔