اسلام آباد: پاکستان کے بیرونی مالیاتی ذخائر میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے اور ملکی زرمبادلہ ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر پہلی مرتبہ 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کے بعد مجموعی ملکی زرمبادلہ ذخائر 26.5 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں، جسے ملکی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ذخائر میں حالیہ اضافے میں یوروبانڈ کی فروخت سے حاصل ہونے والی تقریباً 3 ارب ڈالر کی رقم نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ مارکیٹ سے ڈالرز کی خریداری کے باعث بھی مرکزی بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر پہلی بار 21 ارب ڈالر کی سطح سے اوپر چلے گئے ہیں۔ اس اضافے کے بعد ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر، جن میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیرملکی کرنسی بھی شامل ہے، 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید بیرونی مالیاتی دباؤ، کم ہوتے ڈالر ذخائر اور درآمدی ادائیگیوں کے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے۔ موجودہ سطح ملکی بیرونی ادائیگیوں کے لیے دستیاب مالیاتی گنجائش میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ تقریباً پانچ سال بعد ملک کے پاس ایک مرتبہ پھر تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے برابر زرمبادلہ موجود ہوگیا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر تقریباً 3 ارب ڈالر کی انتہائی کم سطح تک پہنچ گئے تھے۔ اس کے بعد گزشتہ تقریباً تین برسوں میں مرکزی بینک کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا اور اب یہ حجم بڑھ کر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔
ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اس نمایاں اضافے سے پاکستانی معیشت کے بیرونی شعبے کو سہارا مل سکتا ہے، جبکہ درآمدی ضروریات پوری کرنے اور بیرونی ادائیگیوں کا انتظام کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو مستقبل قریب میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کو بھی استحکام ملنے کی توقع ہے۔ تاہم روپے کی طویل مدتی مضبوطی کے لیے برآمدات میں اضافہ، درآمدات میں توازن اور مستقل ڈالر آمدنی بھی اہم ہوگی۔