بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے 7 سینئر رہنماؤں کو سزائے موت
ڈھاکا: بنگلہ دیش میں 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمات میں ایک اور بڑا عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ سے وابستہ سات سینئر رہنماؤں کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی ہے۔ تمام سات افراد کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا اور وہ فی الحال مفرور ہیں۔
سزائے موت پانے والوں میں عوامی لیگ کے سابق جنرل سیکریٹری عبیدالقادر، سابق وزیر مملکت محمد علی عرفات، اے ایف ایم بہاؤالدین نسیم، شیخ فضل شمس پراش، معین الحق خان نکھل، صدام حسین اور شیخ ولی عاصف اینان شامل ہیں۔
تین رکنی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے ملزمان کو قتل، قتل پر اکسانے، اشتعال انگیزی اور سازش سمیت انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیا۔ عدالت نے پانچ ملزمان کے نصف اثاثے ضبط کرکے احتجاج کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کو بطور معاوضہ دینے کا حکم بھی دیا۔
استغاثہ نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم ریاست کی جانب سے مقرر کردہ دفاعی وکیل نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان براہِ راست قتل کی کارروائیوں میں ملوث نہیں تھے اور انہیں کم سزا دی جانی چاہیے تھی۔
اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق جولائی اور اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں حکومت مخالف طلبہ تحریک کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ احتجاجی تحریک بعد ازاں ملک گیر شکل اختیار کرگئی اور بالآخر شیخ حسینہ کی تقریباً 15 سالہ حکمرانی کے خاتمے کا سبب بنی۔
شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے بھارت چلی گئی تھیں۔ ان کے خلاف بھی پہلے ہی ایک مقدمے میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی جاچکی ہے، جبکہ عوامی لیگ کے متعدد دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات اور عدالتی کارروائی جاری ہے۔
تازہ فیصلے کے بعد 2024 کی تحریک سے متعلق مقدمات میں سزا پانے والے افراد کی مجموعی تعداد 68 ہوگئی ہے، جن میں 22 افراد کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ ان 22 میں سے 18 مفرور جبکہ چار زیرحراست ہیں۔