تازہ ترین

مکہ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع اور علاقائی استحکام ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

0

اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف کارروائی یا علاقائی محاذ آرائی نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور مؤثر دفاعی بازداریت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں کوئی جارحانہ پہلو یا علاقائی توسیع کے عزائم شامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید منظم اور مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دیگر ممالک، اتحادوں اور شراکت داروں کے ساتھ بھی آزادانہ تعلقات ہیں، اس لیے مکہ معاہدہ کسی موجودہ اتحاد کا متبادل یا اس کے مقابلے میں قائم کیا گیا انتظام نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ملک کو حملے کا سامنا ہوتا ہے تو اس حوالے سے عملی ردعمل حالات کا جائزہ لینے کے بعد تینوں ممالک باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔ معاہدے کے تحت ایسے ردعمل کے تمام عملی طریقہ کار عوامی سطح پر تفصیل سے ظاہر نہیں کیے گئے۔

انہوں نے پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ مکہ معاہدہ بیجنگ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو متاثر کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے چین، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ الگ الگ اور طویل المدتی تعلقات موجود ہیں اور یہ تعلقات ایک دوسرے سے متصادم نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ معاہدے کو صرف مسلم ممالک کا اتحاد قرار دینے کی اصطلاح سے بھی اختلاف کیا۔ ان کے مطابق یہ بنیادی طور پر علاقائی امن، استحکام، سلامتی اور اجتماعی دفاع کے اصولوں پر مبنی انتظام ہے، جس میں مستقبل میں ایسے شراکت داروں کو شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے جو عدم جارحیت، عدم مداخلت اور علاقائی امن کے اصولوں سے اتفاق رکھتے ہوں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانے اور کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستانی حکومت پہلے بھی واضح کرچکی ہے کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.