تازہ ترین

نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ضرورت ہے، خالد مقبول صدیقی

0

ڈیلس: ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے، جبکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے مؤثر بلدیاتی نظام بھی ضروری ہے۔

ڈیلس آمد کے موقع پر جیو نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے نئے صوبوں، کراچی کی سیاسی و انتظامی حیثیت، سندھ حکومت، ایم کیو ایم کے ووٹ بینک، جماعت کی تقسیم، ’’مائنس الطاف‘‘ اور حالیہ انتخابات سمیت مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو محض ’’شور‘‘ قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق آبادی میں اضافے کے ساتھ انتظامی اکائیوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے، جس طرح نئے اضلاع اور ڈویژنز بنائے جاتے ہیں اسی طرح صوبوں کی تعداد بڑھانے پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایک مضبوط تھرڈ ٹیر آف گورنمنٹ کی ضرورت ہے تاکہ اختیارات اور جمہوریت کے ثمرات براہِ راست شہریوں تک پہنچ سکیں۔

انہوں نے موجودہ چار صوبوں کے انتظامی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لسانی بنیادوں پر قائم انتظامی تقسیم نے ملک میں پولرائزیشن، غلط فہمیوں اور فاصلے پیدا کیے ہیں، اس لیے مستقبل میں لسانی کے بجائے انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کی طرف بڑھنا ہوگا۔

کراچی کے حوالے سے ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد یہ شہر ملک کا دارالحکومت تھا، جبکہ بعد میں اسے سندھ میں شامل کرنے کے طریقہ کار پر تاریخی اور آئینی سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات کو جمہوری طریقے، عوامی رائے اور آئینی عمل کے ذریعے زیر بحث لایا جانا چاہیے۔

سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہ جمہوریت کی ’’ٹھیکیدار‘‘ ہے اور نہ سندھ کی مالک۔ انہوں نے سندھ کے موجودہ سیاسی نظام کو جاگیردارانہ طرز سیاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی معیشت میں کراچی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی چلتا ہے تو پورا ملک پلتا ہے، کراچی کے خلاف سازش دراصل پاکستان کے خلاف سازش ہے۔

ایم کیو ایم کی تقسیم اور جماعت کے ووٹ بینک میں کمی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں چند رہنماؤں کے الگ ہونے سے تقسیم نہیں ہوتیں بلکہ کارکن اور عوام تقسیم ہوں تو جماعت کمزور ہوتی ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کے 80 سے 90 فیصد کارکن اب بھی ایک ساتھ ہیں، جبکہ جو لوگ ’’جبر‘‘ کے باعث الگ ہوئے، حالات تبدیل ہونے پر وہ بھی واپس آسکتے ہیں۔

2018 کے عام انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ انتخابی ناانصافی ہوئی اور اس کی کئی نشستیں زبردستی چھینی گئیں۔

’’مائنس الطاف حسین‘‘ کے بعد ایم کیو ایم کی سمت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کسی سیاسی خاندان کی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے جو کارکنوں کے پاس ہے اور کارکن ہی اسے چلا رہے ہیں۔

فارم 47 کے ذریعے حالیہ انتخابی کامیابی کے الزام پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم چار دہائیوں سے کراچی میں انتخابات جیتتی آرہی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی کو انتخابی نتائج پر اعتراض ہے تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پہچان فارم 47 نہیں، ہماری پہچان 1947 ہے۔

انٹرویو کے دوران ایم کیو ایم کی تقسیم، الطاف حسین کی قیادت سے علیحدگی اور جماعت کے موجودہ ووٹ بینک سے متعلق سوالات پر گفتگو میں تلخی بھی پیدا ہوئی، تاہم خالد مقبول صدیقی نے مختلف سوالات پر جماعت کے نظریاتی اور کارکنوں پر مبنی ڈھانچے کا دفاع کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.